پاکستان

آئی ایم ایف قرضوں کی شفاف نگرانی کا کوئی طریقہ موجود نہیں، اقتصادی امور ڈویژن

  • 30 جون 2025 تک پاکستان کا کل بیرونی قرضہ تقریباً 126 ارب امریکی ڈالر تک جاپہنچا تھا۔
شائع November 1, 2025 اپ ڈیٹ November 1, 2025 11:06am

اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) نے تسلیم کیا کہ موجودہ حالات میں کوئی شفاف طریقہ کار موجود نہیں ہے جو یہ یقینی بنائے کہ آئی ایم ایف سے حاصل کردہ قرضے واقعی بجٹ سپورٹ یا توازن ادائیگی کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔

اقتصادی امور ڈویژن کے افسر نے یہ بات سینیٹ کی اقتصادی امور کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران کہی جو سینٹر سیف اللہ ابڑو کی صدارت میں منعقد ہوا۔

کمیٹی نے آئی ایم ایف کے فنڈز کے حوالے سے پچھلی سفارشات کے نفاذ کا جائزہ لیا جس میں موصولہ رقم، تقسیم، ادائیگیاں، سالانہ بنیاد پر ادا کیے گئے سود اور جامع قرضوں کی تفصیل شامل تھی۔

چیئرمین کمیٹی نے تشویش ظاہر کی کہ اگرچہ مجموعی اعدادوشمار دستیاب ہیں، لیکن کوئی واضح آڈٹ ٹریل یا شفاف اکاؤنٹنگ موجود نہیں ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کے آئی ایم ایف پروگراموں پر انحصار کم کرنے کے وعدے قرضوں کی واپسی اور سودی ذمہ داریوں کے واضح اعداد و شمار کی فراہمی میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

سینیٹر ہدایت اللہ خان نے استفسار کیا کہ آیا آئی ایم ایف کے وہ فنڈز جو گرانٹس یا توازن ادائیگیوں کی معاونت کے طور پر درجہ بندی کیے گئے، مؤثر طریقے سے ساختی اصلاحات کے لیے استعمال ہوئے، جبکہ سینیٹر سید وقار مہدی نے سوال کیا کہ کیا استعمال کے ہدف پورے کیے گئے۔ حکام نے بتایا کہ اہداف موجود ہیں، لیکن نظامی شفافیت اور ڈیٹا کی دستیابی محدود ہے۔

کمیٹی چیئرمین کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ بجٹ کی مد میں رقم 2010، 2019، اور 2020 میں موصول ہوئی تھی۔ پینل کے چیئرمین نے ایس ڈی آر 3.334 ارب کی توسیعی فنڈ سہولت کی تفصیلات کے بارے میں پوچھا، تاہم فنانس ڈویژن کے نمائندے کمیٹی کو مطمئن نہیں کر سکے۔

رپورٹ کے مطابق 30 جون 2025 تک پاکستان کا کل بیرونی قرضہ تقریباً 126 ارب امریکی ڈالر تھا، جس میں 82.5 ارب ڈالر بیرونی عوامی قرضہ اور 43.5 ارب ڈالر حکومت کی ضمانت یافتہ قرضہ شامل ہے۔

سینیٹر ہدایت اللہ خان نے 2008، 2013، 2018، 2022، اور 2024 کے لیے بیرونی قرض اور آئی ایم ایف کی ذمہ داریوں کا مکمل سالانہ ڈیٹا فراہم کرنے کی ضرورت کو دہرایا۔

چیئرمین نے اس تجویز کی تائید کی اور زور دیا کہ درست اور تصدیق شدہ اعداد و شمار پارلیمانی نگرانی کے لیے ناگزیر ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین نے اقتصادی امور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ 2008 سے اب تک کے بیرونی عوامی قرض کا جامع خاکہ کمیٹی کو فراہم کرے جس میں منصوبہ وار الاٹمنٹ، قرض دہندگان کی کیٹیگریز اور معاہدے کا سال شامل ہو۔

کمیٹی اراکین نے اقتصادی امور کے وزیر احد چیمہ کی غیر حاضری پر تشویش ظاہر کی۔

کمیٹی سینیٹ نے ملتان کے تاریخی مرکز کی تزئین و آرائش اور بحالی کے لیے غیر استعمال شدہ فنڈز کی ریلیز سے متعلق معاملے پر غور کیا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اس منصوبے کی منظور شدہ کل لاگت تقریباً 850 ملین روپے تھی جسے دو مراحل میں تقسیم کیا گیا تھا، تاہم کمیٹی چیئرمین نے 679 ملین روپے کے غیر استعمال شدہ بیلنس پر شدید تشویش کا اظہار کیا، یہ رقم منیجمنٹ کمیٹی نے مناسب رپورٹنگ یا احتساب کے بغیر دوسرے منصوبوں کی طرف موڑ دی تھی۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ کی تیاری پر 170 ملین روپے خرچ کیے گئے تھے۔ اقتصادی امور ڈویژن نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ منصوبہ وفاقی حکومت سے صوبائی حکومت کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

کمیٹی کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مختلف منصوبہ جاتی اجزاء کے لیے مختص فنڈز مناسب طریقے سے استعمال نہیں کیے گئے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ کسی بھی قسم کی دوبارہ الاٹمنٹ شفاف اور مکمل دستاویزی طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔

کمیٹی نے توانائی شعبے میں جاری منصوبوں کا بھی جائزہ لیا جن میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے چلنے والے پاور ڈسٹری بیوشن اسٹرینتھنینگ پروجیکٹ کے تحت لیسکو کے ذریعے ایس ٹی جی سامان کی خریداری شامل ہے۔ ایس ٹی جی حصے کے لیے 8 کروڑ امریکی ڈالر کا قرضہ طے پایا ہے، 8 حصوں میں خریداری کا عمل جاری ہے جس کی تکنیکی جانچ تیسرے فریق کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ سینیٹر ابڑو نے طریقہ کار میں تضادات پر تشویش ظاہر کی۔

پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے ایم ڈی کی بریفنگ کے بعد کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ لیسکو نے پی پی آر اے کے ضوابط کی مکمل خلاف ورزی کی ہے۔ پاور ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری نے بھی ان خلاف ورزیوں کو تسلیم کیا۔ کمیٹی نے حیرت کا اظہار کیا کہ زیادہ تر کم ترین بولی دہندگان کو پی پی آر اے کے قوانین کی پابندی کیے بغیر غیر جوابی قراردیا گیا اور منصوبے کے ایک پارٹ میں جو بولی دہندہ جوابی قرار پایا وہ دوسرے پارٹ میں غیر جوابی قرار دیا گیا۔

مزید برآں سینیٹر فلک ناز نے چترال میں سڑکوں تک ناقص رسائی پر تشویش کا اظہار کیا جس سے مقامی کمیونٹیز اور سیاحت متاثر ہو رہی ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے رپورٹ کیا کہ بحالی کا 85 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور باقی ماندہ کام نومبر 2025 تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔

کمیٹی چیئرمین نے فیصلہ کیا کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس چترال میں منعقد کیا جائے گا تاکہ منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیا جاسکے اور صوبائی حکومت کے نمائندوں کو بھی اجلاس میں شرکت کی اطلاع دی جائے تاکہ این ایچ اے کے ساتھ اس مسئلے کو حل کیا جاسکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025