دنیا کے سب سے بڑے ماحولیاتی فنڈ گرین کلائمیٹ فنڈ (جی سی ایف) نے 25 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی ہے جو گلیشیرز ٹو فارمز کے نام سے ایک فلیگ شپ موافقتی منصوبے کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی قیادت میں شروع کیا جارہا ہے جس کا مقصد مقصد گلیشیئر پر انحصار کرنے والے خطوں میں پانی اور زراعت کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
بدھ کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق یہ فنڈنگ زیادہ تر گرانٹس (امداد) کی شکل میں فراہم کی جائے گی، اے ڈی بی آئندہ 10 برس میں منصوبوں پر 3.25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
اے ڈی بی کی ڈائریکٹر برائے زراعت و خوراک یاسمین صدیقی نے کہا کہ برفانی تودوں کے تیزی سے پگھلنے کا عمل ہمارے خطے کو درپیش سب سے پیچیدہ ترقیاتی چیلنجوں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی عملی، قابلِ توسیع اور سائنسی بنیادوں پر مبنی حل کی ضرورت ہے جو مقامی برادریوں کو موافقت میں مدد دے سکیں۔ جی سی ایف کی معاونت سے ’گلیشیئرز ٹو فارمز‘ پروگرام خطے کو منتشر منصوبوں سے نکال کر ایک جامع، طویل المدتی نظامی استحکام کی جانب لے جائے گا جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کی زندگیوں اور روزگار کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔
’گلیشیئرز ٹو فارمز‘ پروگرام ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے نو ترقی پذیر رکن ممالک پر مشتمل ہے، جن میں آرمینیا، آذربائیجان، جارجیا، قازقستان، کرغز ریپبلک، پاکستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ یہ تمام ممالک زراعت، مقامی پانی اور بجلی کی پیداوار کے لیے برفانی تودوں اور برف پگھلنے سے بننے والے دریاؤں پر انحصار کرتے ہیں۔
منیلا میں قائم بینک نے نشاندہی کی کہ تیز رفتار برفانی پگھلاؤ ان قدرتی ماحولیاتی خدمات اور روزگار کے ذرائع کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں ہر چار میں سے ایک شخص زراعت سے وابستہ ہے۔
اعلامیے کے مطابق گلیشیئرز سے نکلنے والے 4 بڑے دریائی حوض، نارین، پیانج، کُورا اور سوات، اس پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ افراد، جن میں کسان اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والی کمزور آبادی شامل ہے، اس پروگرام سے براہِ راست مستفید ہوں گے۔بیان کے مطابق، یہ پروگرام موسمیاتی اور گلیشیائی اثرات کے جائزوں میں معاونت فراہم کرے گا، جو قومی ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے منصوبہ جاتی خاکوں کی تیاری میں مدد دیں گے۔
مزید کہا گیا کہ پروگرام کے تحت مانیٹرنگ اور ابتدائی انتباہی نظام کو بھی مضبوط بنایا جائے گا تاکہ مقامی برادریاں گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے یا طویل خشک سالی جیسے خطرات کے اثرات سے بہتر طور پر نمٹ سکیں۔