پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ کل سعودی عرب جائینگے

  • وفد نائنٹھ فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو میں شریک ہوگا، جہاں عالمی رہنما، سرمایہ کار، پالیسی ساز اور انوویٹرز جمع ہوں گے
شائع October 26, 2025 اپ ڈیٹ October 26, 2025 01:45pm

وزیرِاعظم شہباز شریف 27 سے 29 اکتوبر تک سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کا دورہ کریں گے، جہاں وہ ”فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو“ (ایف آئی آئی) کے نویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق وزیرِاعظم ایک اعلیٰ سطح وفد کی قیادت کریں گے تاکہ سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی اور سرمایہ کاری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔

دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر وزیرِاعظم شہباز شریف، نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سمیت کابینہ کے سینئر وزرا کے ہمراہ ریاض روانہ ہوں گے تاکہ ایف آئی آئی کے نویں اجلاس میں شرکت کر سکیں۔

یہ اجلاس عالمی رہنماؤں، سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور انوویٹرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گا، جس کا مرکزی موضوع ہے: “دی کی ٹو پراسپیرٹی: ان لاکنگ نیو فرنٹیئرز آف گروتھ “ یعنی خوشحالی کی کنجی — ترقی کی نئی سرحدوں کو کھولنا۔

اجلاس میں اختراعات، پائیداری، معاشی شمولیت اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں جیسے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

دورے کے دوران وزیرِاعظم سعودی قیادت سے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی معاملات پر بھی تبادلۂ خیال متوقع ہے۔

وزیرِاعظم ایف آئی آئی کے موقع پر دیگر ممالک کے رہنماؤں اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کریں گے تاکہ پاکستان کی سرمایہ کاری کی صلاحیت اور پائیدار ترقی کے لیے تیاریوں کو اجاگر کیا جا سکے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان کی اقتصادی سفارت کاری کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں اسٹریٹجک شراکت داریوں کو مضبوط کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

گزشتہ ماہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران دونوں ممالک نے اسٹریٹجک مشترکہ دفاعی معاہدہ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی بھی ایک ملک پر جارحیت کو دونوں ریاستوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، تاکہ مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مزید تقویت دی جا سکے۔