وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو نے بدھ کے روز انکشاف کیا کہ ان کے ملک کے پاس 5,000 روسی ساختہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل موجود ہیں جو امریکی افواج کی ممکنہ کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں بحرِ کریبین میں اپنے بحری جہاز اور اسٹیلتھ طیارے تعینات کیے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی قرار دیا ہے۔ امریکی فوج اب تک کم از کم آٹھ کشتیوں کو تباہ کر چکی ہے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ وینیزویلا سے امریکہ کی جانب منشیات لے جا رہی تھیں۔

دوسری جانب، وینیزویلا نے امریکی تعیناتی کو وینیزویلا حکومت کے خاتمے کی تیاری قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔ واشنگٹن، نکولس مادورو پر منشیات کے کارٹیل چلانے کا الزام عائد کرتا ہے۔

ایک سرکاری تقریب میں فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے نکولس مادورو نے کہا کہ وینیزویلا کے پاس روسی ساختہ ایگلا-ایس میزائل موجود ہیں، جنہیں اہم فضائی دفاعی مقامات پر تعینات کیا گیا ہے تاکہ امن برقرار رہے۔

یہ میزائل کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں اور انہیں امریکی فوجی سرگرمیوں کے ردِعمل میں کی گئی فوجی مشقوں کے دوران استعمال کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے کانگریس کو بتایا ہے کہ امریکہ لاطینی امریکہ کے منشیات فروش گروہوں کے ساتھ مسلح تنازعے میں ہے اور ان گروہوں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا گیا ہے۔

علاقائی کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا جب کولمبیا نے اپنے سفیر کو واشنگٹن سے واپس بلا لیا، جب کہ کولمبیا کے بائیں بازو کے صدر گوستاوو پیٹرو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان لفظی تنازع شدت اختیار کر گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کارروائیوں سے سمندری اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے اور اب زمینی آپریشنز کے لیے بھی تیاری مکمل ہے۔