اداریہ

آئی ایم ایف کی رپورٹ

شائع October 23, 2025 اپ ڈیٹ October 23, 2025 11:52am

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی رپورٹ بعنوان “علاقائی معاشی جائزہ: مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا، غیر یقینی حالات میں مزاحمت: کیا یہ برقرار رہے گی؟” میں پاکستان کو خبردار کیا گیا ہے کہ شدید سیلاب کے اثرات ملک کی معاشی نمو، مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ پر موجودہ اندازوں سے کہیں زیادہ منفی ہوں گے، اگرچہ اس کے حقیقی اثرات کے بارے میں تاحال غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ بات عیاں ہے اور اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ آئی ایم ایف نے حکومت کو 7 ارب ڈالر کے جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت ایک سخت پیشگی شرط میں نرمی دی ہے۔ یہ پروگرام 27 ستمبر 2024 کو آئی ایم ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری سے منظور کیا گیا تھا، یہ شرط زرعی اجناس کی قیمتیں مقرر کرنے اور خریداری میں حکومتی مداخلت کی دیرینہ پالیسی کو ترک کرنے سے متعلق تھی، جس کے بارے میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ اس کی وجہ سے یہ شعبہ صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات کے مطابق جوابدہ نہیں رہا اور اس سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ذخیرہ اندوزی میں اضافہ ہوا، آئندہ ان مداخلتوں کو ختم کر دیا جانا چاہیے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) یا صوبائی فوڈ ڈپارٹمنٹس کی جانب سے زرعی اجناس کی کوئی بھی خریداری صرف اور صرف قومی غذائی تحفظ کے واضح اور محدود دائرہ کار کے تحت کی جانی چاہیے،نہ کہ نیم مالیاتی سماجی پالیسیوں کے طور پر، جس میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے یا بنیادی غذائی اجناس کے لیے غیر ہدف شدہ سبسڈی فراہم کرنے جیسے مقاصد شامل ہیں۔

تاہم اس حوالے سے یہ واضح نہیں کہ صوبائی فوڈ ڈپارٹمنٹس کو کتنی گنجائش دی گئی ہے اور یہ سمجھنا غلط نہ ہوگا کہ حتمی فیصلہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے مکمل تخمینے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پیش کی گئی 3.6 فیصد شرحِ نمو کی پیش گوئی جو بجٹ میں طے شدہ ہدف سے 0.6 فیصد کم ہے حد سے زیادہ پُرامید معلوم ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ اس سست شرحِ نمو کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں پر بھی اثر پڑے گا، جو اندازاً 200 سے 300 ارب روپے تک کے خسارے کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پہلے ہی موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 198 ارب روپے کی کمی کا اعتراف کر چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی سال کے لیے مالی خسارہ جی ڈی پی کے منفی 4.1 فیصد پر متوقع ہے، جو حالیہ سیلاب کی صورتحال کے تناظر میں خاصا حیران کن ہے۔یہ بات قابلِ غور ہے کہ 2025-26 کے بجٹ میں جو سیلاب سے قبل تیار کیا گیا تھا، مالی خسارہ منفی 5.9 فیصد تخمینہ کیا گیا تھا، جو 2024-25 کے 5.3 فیصد کے مقابلے میں زیادہ تھا۔ تاہم، نظرِ ثانی شدہ تخمینوں میں یہ خسارہ منفی 7.4 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بجٹ میں یہ منفی 6.5 فیصد طے کیا گیا تھا۔

تاہم، آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر 10 اکتوبر کو جاری کیے گئے اسٹاف لیول معاہدے کے دستاویزات کے مطابق مالی خسارہ منفی 7.1 فیصد ظاہر کیا گیا ہے (جو بجٹ کے تخمینے سے قریب تر ہے)، جبکہ موجودہ مالی سال کے لیے خسارے کی پیش گوئی منفی 4.7 فیصد کی گئی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ آئی ایم ایف کے تخمینے حد سے زیادہ پُرامید ہیں، جن میں تقریباً 1 سے 1.5 فیصد پوائنٹس تک کا فرق پایا جا سکتا ہے، تاہم آئی ایم ایف نے اپنی اس پیش گوئی کے جواز میں اعلیٰ درجے کی غیر یقینی صورتحال کو بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے۔

برآمدات میں اضافے کا تخمینہ نسبتاً حقیقت پسندانہ قرار دیا گیا ہے، جس کے مطابق برآمدات میں 1.4 ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے، یعنی 40.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر 42.1 ارب ڈالر تک۔ یہ پیش گوئی بنیادی طور پر درآمدات میں 4 ارب ڈالر کے اضافے پر مبنی ہے جو زیادہ تر خام مال اور نیم تیار شدہ مصنوعات پر مشتمل ہوں گی، یعنی 70.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر 74 ارب ڈالر تک۔

یہ تخمینے پیچیدہ نوعیت کے ہیں، کیونکہ عالمی تجارت اس وقت مختلف تنازعات بالخصوص مشرقِ وسطیٰ اور روس۔یوکرین جنگ کے باعث متاثر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں سرمایہ کاری کے لیے غیر موافق ماحول بھی برقرار ہے جس کی ایک بڑی وجہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت جاری انتہائی سخت مالی اور مانیٹری پالیسیاں ہیں۔ مزید یہ کہ پیداواری لاگت کی مکمل وصولی کے ہدف کے تحت پاکستان میں توانائی اور ٹرانسپورٹ کے نرخ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ رکھے گئے ہیں، جس سے مسابقت کی صلاحیت مزید متاثر ہو رہی ہے۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ جب تک سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی مکمل حد و نوعیت کا تخمینہ نہیں لگایا جاتا، موجودہ معاشی تخمینے 1 سے 1.5 فیصد پوائنٹس تک کے اعدادی تفاوت کے خطرے سے دوچار رہیں گے جو خاصی اہم سطح ہے۔ جیسا کہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے، اس فرق کے باعث سیلاب سے قبل آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد سے حاصل ہونے والی پیش رفت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025