بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک (ڈبلیو ای او) رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی شرحِ نمو 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے جو بجٹ میں طے شدہ 4.2 فیصد کے تخمینے سے کم ہے تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو ابھی تخمینوں میں شامل نہیں کیا گیا جو ایک درست نکتہ ہے کیونکہ رپورٹ کے اجرا کے وقت نقصانات کا حتمی تخمینہ ابھی طے نہیں پایا تھا۔

تاہم یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ 14 اکتوبر کو آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اسٹاف لیول معاہدے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حالیہ سیلاب جس نے تقریباً 70 لاکھ افراد کو متاثر کیا، ایک ہزار سے زائد ہلاکتوں کا باعث بنا اور مکانات، عوامی انفرااسٹرکچر اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچایا نے خاص طور پر زرعی شعبے کی ترقی کے امکانات کو متاثر کیا ہے، اس کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو کا تخمینہ 3.25 سے 3.5 فیصد کے درمیان کر دیا گیا ہے، اسی تناظر میں موجودہ مالی سال کے لیے آئی ایم ایف اور ملکی ماہرینِ معیشت نے شرحِ نمو کے تخمینے 2 سے 2.5 فیصد کے درمیان مقرر کیے ہیں۔

ورلڈ اکنامک آؤٹ لک (ڈبلیو ای او) کی جانب سے 3.6 فیصد شرحِ نمو کے تخمینے کی بنیاد پر یہ امکان کم ہی نظر آتا ہے کہ موجودہ مالی سال کے لیے 6 فیصد مہنگائی کی پیش گوئی پوری ہو سکے۔اس تناظر میں دو اہم مشاہدات پیش کیے جا سکتے ہیں۔

سب سے پہلی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ادارہ شماریات کی جانب سے جلدی خراب ہونے والی اشیاء کو 4.99 فیصد وزن دیا گیا ہے۔ سیلاب کے بعد کے حالات میں ان اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ متوقع ہے، جو مختلف آمدنی والے طبقوں پر مختلف انداز سے اثر ڈالے گا۔ مزید برآں سیلاب سے دیہی آمدن پر نمایاں منفی اثرات متوقع ہیں جس کے نتیجے میں غربت کی شرح موجودہ 44.7 فیصد سے بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت کو سماجی تحفظ کے لیے اضافی فنڈز مختص کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔

دوسری بات یہ ہے کہ مہنگائی کا اثر ایک ہی آمدنی والے مختلف گھروں پر بھی مختلف انداز سے پڑے گا، جو ان کے اخراجاتی رجحانات پر منحصر ہے۔مثال کے طور پر، اگر کسی گھرانے کے بچے اسکول یا یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں تو تعلیم کے اخراجات میں اضافہ اس کی آمدنی کا نمایاں حصہ جذب کر لے گا۔ اس صورت میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی جانب سے تعلیم کو دیا گیا 3.79 فیصد وزن ایسے گھرانوں پر واضح اثر ڈالے گا۔ اس کے برعکس، جن گھرانوں کے بچے اسکول یا یونیورسٹی میں نہیں ہیں، وہ مہنگائی کے اس پہلو سے متاثر نہیں ہوں گے۔

یہ نکتہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کو تکنیکی معاونت فراہم کی ہے جو رواں سال جولائی میں شروع ہوئی۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل شعبوں سے متعلق دستیاب بنیادی اعداد و شمار میں خصوصاً نئے پروڈیوسر پرائسز انڈیکس کی تیاری کے سلسلے میں نمایاں خامیاں موجود ہیں۔

اس تکنیکی معاونت کی کامیاب تکمیل جو جون 2026ء تک مکمل ہونے کا شیڈول ہے، سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ آئی ایم ایف کے حالیہ مشن کی اُن خدشات کو دور کیا جا سکے گا جو پاکستان ریونیو آٹومیٹک لمیٹڈ (پی آر اے ایل) اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کے اعدادوشمار میں عدم مطابقت سے متعلق ہیں۔

بزنس ریکارڈر کی خصوصی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی ذیلی کمپنی پاکستان ریونیو آٹومیٹک لمیٹڈ نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے درآمدی اعداد و شمار اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے درمیان 11 ارب ڈالر کا فرق دو اہم وجوہات کی بنا پر ہے:(i) تجارتی سہولت کاری اسکیموں سے متعلق درآمدی ڈیٹا جس میں گڈز ڈیکلریشنز (بیگیج، گھریلو استعمال اور کمرشل درآمدات) اور دیگر اقسام کے درآمدی اعداد و شمار شامل ہیں ، پی بی ایس کے نظام میں ضم نہیں کیا گیا اور اس وجہ سے پی بی ایس کو رپورٹ نہیں کیا جاتا اور(ii) معیاری ڈیٹا کی تعریف کی عدم موجودگی۔

تاہم پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے ایک عہدیدار نے اس اخبار کو بتایا کہ ان کا یہ تاثر تھا کہ انہیں پی آر اے ایل کی جانب سے کسٹمز سے متعلق مکمل درآمدی ڈیٹا موصول ہو رہا ہے۔ دونوں اداروں کے حکام نے دعویٰ کیا کہ اعدادوشمار میں غلط رپورٹنگ دانستہ نہیں تھی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان نے وضاحت کی کہ بینک تجارتی اعداد و شمار تجارتی ادائیگیوں کی بنیاد پر مرتب کرتا ہے جو بینکوں سے موصول ہوتی ہیں، لہٰذا کرنٹ اکاؤنٹ (مجموعی ادائیگیوں کا توازن) میں کسی بڑی نظرِثانی کا امکان نہیں ہے۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ متعدد ذرائع سے حاصل شدہ ڈیٹا میں ہم آہنگی پیدا کرنا ناگزیر ہے تاکہ حکومت بر وقت اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکے جو بالآخر عوام کے مفاد میں ثابت ہو گا۔