پاکستان

پاور ڈویژن سے 2,000 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو پر گیس اٹھانے کا منصوبہ طلب

  • اقدام کا مقصد آر ایل این جی معاہدوں سے جڑی ٹیک-اینڈ-پے ذمہ داریوں کو کم کرنا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پیٹرولیم ڈویژن نے پاور ڈویژن سے کہا ہے کہ وہ 2 ہزار روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر ریگیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس (آرایل این جی) اٹھانے کے لیے ایک ٹھوس منصوبہ فراہم کرے جو اسلام آباد کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد آر ایل این جی معاہدوں سے جڑی ”ٹیک-اینڈ-پے“ کی ذمہ داریوں کو کم کرنا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ یہ کوشش نجی اور سرکاری دونوں طرح کے بجلی گھروں کو دی جانے والی کیپیسٹی پیمنٹس کو کم کرنے کی حالیہ کوششوں سے ملتی جلتی ہے۔

یہ اقدام ان خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے کہ مقامی (ملکی) گیس فیلڈز کو بند کیا جا رہا ہے تاکہ اضافی اور مہنگے آر ایل این جی کو رہائشی صارفین سمیت دوسرے شعبوں میں کھپایا جا سکے۔ بجلی کی کم طلب اور نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی ) کے اکنامک میرٹ آرڈر (ای ایم او) کے تحت رکاوٹوں کی وجہ سے بجلی گھر اپنی مختص کردہ آر ایل این جی کی مقدار استعمال نہیں کرسکے ہیں۔

پاور ڈویژن کے ایک سینئر اہلکار نے ٹیک اینڈ پے ایل این جی معاہدوں کے مالی بوجھ کو تسلیم کیا اور تصدیق کی کہ ان واجبات کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، بالکل اسی حکمت عملی کے مطابق جو آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) اور سرکاری پاور پلانٹس (جی پی پیز) کے لیے کیپیسٹی پیمنٹس کے لیے استعمال کی گئی تھی۔

محدود مقامی طلب کی وجہ سےجو بنیادی طور پر زیادہ مہنگی آرایل این جی کی قیمتوں کی وجہ سے ہے،حکومت نے کچھ ایل این جی کارگو کو بین الاقوامی اسپاٹ مارکیٹ میں منتقل کر دیا ہے اور دیگر کو قطر کے ساتھ دوبارہ شیڈول کیا ہے۔ ایس این جی پی ایل نیٹ ورک بھی لائن پیک کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے کیونکہ گیس کا استعمال کم ہے۔

حالیہ ایک مراسلے میں، پیٹرولیم ڈویژن نے پاور ڈویژن کو بتایا کہ قومی ٹاسک فورس برائے بجلی اور پیٹرولیم سیکٹر میں اسٹرکچرل ریفارمز کمیٹی کے اجلاسوں کے دوران آرایل این جی کے استعمال کے متعدد اضافی منظرناموں پر بات چیت کی گئی تھی۔ ان طلب کے منظرناموں کا مختلف آرایل این جی قیمت پوائنٹس پر جائزہ لیا گیا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر (این جی-III) حسین مبشر نے اپنے سرکاری مراسلے میں کہا کہ چونکہ پیٹرولیم ڈویژن اس وقت ایل این جی کی فراہمی کو بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے، اس لیے درخواست کی جاتی ہے کہ پاور ڈویژن واضح طور پر آر ایل این جی کی ان مقداروں کی نشاندہی کرے جن کا وہ 2,000 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر استعمال (commitment) کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاور ڈویژن کو کسی بھی متبادل قیمت کی سطح کو بھی شیئر کرنا چاہیے جو زیادہ مقدار میں استعمال کو یقینی بنا سکے تاکہ بہترین منصوبہ بندی میں سہولت فراہم ہو۔

اس دوران وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان کے قطر کے ساتھ طویل مدتی ایل این جی معاہدے کو ترک کرنے کی تجاویز کی سخت مخالفت کی اور زور دیا کہ اسلام آباد دوحہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قیمت پر کسی بھی دوبارہ گفت و شنید کو کمٹ کیے گئے حجم کو کم کرنے کی تیاری کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

اگست 2025 کے آخری ہفتے میں، وزیر نے قطر کا دورہ کیا اور پاکستان اسٹیٹ آئل پر مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے ایل این جی کارگو کے دوبارہ شیڈول کے مختلف آپشنز پر بات چیت کی۔

وزیر کے قطر کے دورے سے قبل، پاور سیکٹر میں کم گیس کے استعمال کے پیش نظر قطر ایل این جی معاہدے پر دوبارہ غور کرنے کی ابتدائی تجویز سامنے آئی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس معاملے پر پیٹرولیم اور پاور وزارتوں کے درمیان اختلافات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔

حالیہ ایک اجلاس میں جو پیٹرولیم وزیر کی صدارت میں پیٹرولیم سیکٹر میں اسٹرکچرل ریفارمز کمیٹی کا ہوا، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کے نوید قیصر نے درآمد شدہ کوئلے اور آر ایل این جی کے درمیان انرجی پرچیز پرائسز (ای پی پی ) کا تقابلی تجزیہ پیش کیا۔

اعداد و شمار کے مطابق، پاور سیکٹر فی الحال تقریباً 340 ملین مکعب فٹ یومیہ (mmcfd) آر ایل این جی استعمال کر رہا ہے ایک ایسا ہندسہ جس کے بارے میں توقع ہے کہ 2031 تک یہ کم ہو کر 175 ملین مکعب فٹ یومیہ رہ جائے گا۔ تجزیے کے مطابق اضافی آر ایل این جی کی کھپت کا تخمینہ یہ ہے:1500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر: 174 ملین مکعب فٹ یومیہ (mmcfd)۔2000 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر: 127 ملین مکعب فٹ یومیہ (mmcfd)۔2209 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر: 95 ملین مکعب فٹ یومیہ (mmcfd)۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025