پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس کاروبار کے آخری گھنٹوں میں 600 سے زائد پوائنٹس گر گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 638.50 پوائنٹس یا 0.66 فیصد کمی کے ساتھ 163,360.53 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کے دوران زیادہ تر منفی رجحان دیکھا گیا، جو سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول کے تسلسل کا نتیجہ تھا۔‘‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ انڈیکس میں منفی کردار ادا کرنے والے نمایاں اسٹاکس میں ماری ، یو بی ایل، ایچ بی ایل، پی او ایل اور اینگرو ہولڈنگ شامل تھے، جن کی وجہ سے مجموعی طور پر انڈیکس میں 681 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل پاکستان اسٹاک ایکسچینج منفی زون میں بند ہوئی کیونکہ بڑے شعبوں میں بھاری منافع خوری دیکھی گئی، حالانکہ مارکیٹ نے اپنی تاریخ کا سب سے زیادہ تجارتی حجم ریکارڈ کیا۔جمعرات کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,241.66 پوائنٹس یا 0.75 فیصد کی کمی سے 164,444.72 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی حصص کی منڈیوں نے وال اسٹریٹ کی کمزوری کو فالو کیا، بانڈز میں اضافہ جاری رہا اور سونا جمعہ کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ امریکہ کے علاقائی بینکوں میں کریڈٹ دباؤ کے آثار نے سرمایہ کاروں کو بے چینی میں مبتلا کر دیا۔
گزشتہ رات زائنس کے حصص میں 13 فیصد کی گراوٹ آئی جب اس نے انکشاف کیا کہ اس کی کیلیفورنیا ڈویژن کے دو قرضوں پر تیسرے سہ ماہی میں 50 ملین ڈالر کا نقصان ہوگا۔ ویسٹرن الائنس کے اسٹاک میں 11 فیصد کمی آئی جب اس نے کینٹر گروپ وی، ایل ایل سی کے خلاف دھوکہ دہی کے الزام میں مقدمہ دائر کیا۔
ان دونوں پیش رفتوں نے امریکی بینکنگ اسٹاکس کو شدید نقصان پہنچایا۔
ایس اینڈ پی 500 فیوچرز اور نیسڈیک فیوچرز میں بالترتیب 0.3 فیصد کمی دیکھی گئی، کیونکہ دن کے دوران امریکی علاقائی بینکوں کے مزید مالی نتائج متوقع تھے۔ یورپی اسٹاک فیوچرز میں 0.7 فیصد کمی جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز میں 0.9 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
چین اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے باعث ایکویٹی مارکیٹس میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی دھچکا لگا ہے۔ چین نے جمعرات کو امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ نایاب ارضی دھاتوں پر عائد پابندیوں کے حوالے سے غیر ضروری خوف و ہراس پیدا کر رہا ہے اور اس نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان پابندیوں کو واپس لینے کی اپیل کو مسترد کر دیا۔
ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک کے خطے میں جاپان کے علاوہ سب سے وسیع انڈیکس 0.9 فیصد گرگیا جس سے ہفتہ منفی زون میں چلا گیا۔ جاپان کا نکئی انڈیکس 1 فیصد کم ہوا کیونکہ اس کا بینکنگ انڈیکس تیزی سے نیچے آیا۔
تائیوان کے حصص میں بھی 0.9 فیصد کمی دیکھی گئی، حالانکہ چپ بنانے والی کمپنی ٹی ایس ایم سی نے ریکارڈ سہ ماہی منافع ظاہر کیا اور مصنوعی ذہانت پر اخراجات کے لیے ایک مثبت پیش گوئی جاری کی۔
آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم گزشتہ روز کے 3.078 ارب کے مقابلے میں کم ہو کر 1.978 ارب شیئرز رہا۔ حصص کی مالیت بھی گھٹ کر 50.61 ارب روپے سے 36.99 ارب روپے رہ گئی۔
ورلڈ کال ٹیلی کام 891.37 ملین شیئرز کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرِفہرست رہی، جس کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ 262.73 ملین شیئرز اور بینک آف پنجاب 84.16 ملین شیئرز کے ساتھ باالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
جمعہ کے روز مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 166 کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 277 کے نرخ میں کمی جبکہ 40 کے بھاؤ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔