سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے جمعرات کے روز متفقہ طور پر نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (این اے ایف ایس اے) آرڈیننس 2025 کی منظوری دے دی، جس کے تحت پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ (ڈی پی پی) اور اینیمل کوارنٹائن ڈیپارٹمنٹ (اے کیو ڈی) کو ضم کر کے ایک نئی اتھارٹی قائم کی جائے گی، تاکہ پاکستان کی زرعی تجارت کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت ہوا، جس میں سینیٹر دانش کمار، پونجو بھیل اور حافظ عبد الکریم سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے آرڈیننس کے مقاصد پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ ان کے زیر انتظام سب سے زیادہ کرپٹ اداروں میں سے ایک رہا ہے، اور اس کے بیشتر افسران و ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیرِاعظم کی ہدایت ہے کہ برطرف شدہ کسی بھی افسر کو دوبارہ تعینات نہیں کیا جائے گا، اور نئی بھرتیاں اتھارٹی کے قیام کے بعد کی جائیں گی۔

وزارت قانون کے نمائندے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ نئے قانون میں برطرف ملازمین کی بحالی پر واضح پابندی عائد کی گئی ہے۔ دو سینیٹرز کی جانب سے نئے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی پر اٹھائے گئے تحفظات کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ ادارے میں اصلاحات کے حامی ہیں، لیکن کسی سیاسی دباؤ کو برداشت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا کردار رہنمائی فراہم کرنا ہے، متوازی حکومت چلانا نہیں۔

اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان کی زرعی برآمدات ملکی زرعی معیشت کی ترقی کی رفتار سے ہم آہنگ نہیں ہو رہیں۔ عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے سینیٹری اور فائیٹو سینیٹری (ایس پی ایس) معیارات پر عملدرآمد میں ناکامی پاکستان کی زرعی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ وزارت نے بتایا کہ 2006 سے 2016 کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی 2023 کی رپورٹ دونوں نے پاکستان میں ایس پی ایس معیارات کے نفاذ کی ادارہ جاتی کمزوریوں کو زرعی برآمدات میں سست روی کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

مزید بتایا گیا کہ 2024 میں یورپی یونین کی بندرگاہوں پر پاکستانی چاول کی 72 کھیپوں کی واپسی نے ملک کی زرعی مصنوعات کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ قرنطینہ ادارے عالمی معیارات پر پورا نہیں اتر رہے۔ وزارت نے زور دیا کہ نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (این اے ایف ایس اے) جیسے خودمختار اور جدید ریگولیٹری ادارے کا قیام ناگزیر ہے تاکہ حیاتیاتی تحفظ، خوراک کی حفاظت، اور بین الاقوامی تجارتی تقاضوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی کابینہ نے 15 اپریل 2025 کو مسودۂ بل کی منظوری دی تھی، جس کے بعد صدرِ مملکت نے 2 مئی 2025 کو آرڈیننس جاری کیا۔ نئی اتھارٹی زرعی درآمدات و برآمدات کی نگرانی کرے گی، عالمی معیارات کے مطابق مصنوعات کی تصدیق اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ ادارہ ایک بورڈ آف گورنرز کے تحت کام کرے گا، جس میں وفاقی و صوبائی نمائندوں کے ساتھ نجی شعبے کے ماہرین بھی شامل ہوں گے تاکہ فیصلہ سازی متوازن اور مؤثر ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025