قاہرہ میں حماس اور اسرائیل کے مذاکرات کار غزہ میں تقریباً دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کے فوری تبادلے کے لیے اہم بات چیت کر رہے ہیں۔ مصر، قطر اور ترکی سمیت کئی ممالک نے ان مذاکرات کو پائیدار جنگ بندی کے لیے حقیقی موقع قرار دیا ہے۔

حماس نے کہا ہے کہ وہ زمینی حقائق کے مطابق ایسا معاہدہ چاہتی ہے جو جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کے تبادلے کو یقینی بنائے۔ یہ مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس امن منصوبے کے بعد تیز ہوئے ہیں جس میں اسرائیلی جیلوں سے 1700 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے یرغمالیوں کی رہائی کی تجویز دی گئی ہے۔

مذاکرات مصری شہر شرم الشیخ میں جاری ہیں، جہاں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امید ظاہر کی ہے کہ یرغمالیوں کو آنے والے دنوں میں یہودی تہوار سککوٹ کے دوران رہا کر دیا جائے گا۔ حماس نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے مکمل خاتمے، فضائی اور ڈرون حملے بند کرنے اور غزہ شہر سے فوجی انخلاء پر زور دیا ہے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور بتایا کہ اسرائیل نے انخلاء کی ابتدائی لائن پر اتفاق کر لیا ہے۔ ان کے مطابق حماس کی تصدیق کے ساتھ ہی جنگ بندی فوری طور پر مؤثر ہو جائے گی۔

تاہم سفارتی کوششوں کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں جن سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہو رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یوآف کاٹز کے مطابق حملوں کے باعث تقریباً 9 لاکھ افراد جنوبی غزہ کی جانب نقل مکانی کر چکے ہیں، جبکہ وزارتِ صحت کے مطابق اب تک 67 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔