کے الیکٹرک کو آپریشنل سبسڈیز نہیں ملتیں، سی ایف او
ملک کی واحد نجی بجلی کمپنی کے-الیکٹرک نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر قومی گرڈ سے حاصل ہونے والی ایٹمی اور پن بجلی کو نکال دیا جائے تو اس کی بجلی پیداوار کی لاگت ملک کے دیگر حصوں میں پیدا ہونے والی بجلی سے کم ہے۔ یہ بات کے-الیکٹرک کے چیف فنانشل آفیسر عامر غازیانی نے جمعرات کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی سماعت کے دوران کہی، جو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کی نظرثانی درخواست پر منعقد ہوئی۔
عامر غازیانی نے کہا کہ بین الاقوامی قرض دہندگان طویل المدتی سرمایہ کاری منصوبوں کے بغیر قرضے فراہم نہیں کرتے، لہٰذا اگر کے-الیکٹرک کا لائسنس کم مدت کے لیے کیا گیا تو کمپنی کی سرمایہ کاری کی صلاحیت متاثر ہوگی۔ انہوں نے نیپرا سے سات سالہ کنٹرول پیریڈ برقرار رکھنے کی درخواست کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کے-الیکٹرک کو آپریشنل سبسڈی نہیں ملتی بلکہ حکومت کی یکساں ٹیرف پالیسی کے باعث ٹیرف ڈفرینشل کلیم کی ادائیگی کی جاتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ کمپنی کو مقامی گیس دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر بعدازاں اسے مہنگی ری-گیسیفائیڈ ایل این جی پر منتقل کیا گیا جو کمپنی کے کنٹرول سے باہر تھا۔ عامر غازیانی کے مطابق اگر ایٹمی اور پن بجلی نکال دی جائے تو کے-الیکٹرک کی پیداواری لاگت دیگر ڈسکوز سے کم ہے، جس سے کمپنی کی کارکردگی ثابت ہوتی ہے۔
کے سی سی آئی کے نمائندے تنویر بیری نے اعتراض کیا کہ کے-الیکٹرک کو ڈالر میں ریٹرن آن ایکویٹی (آر او ای) دیا جا رہا ہے جو روپے میں تبدیل ہوکر 24.46 فیصد بنتا ہے، جبکہ دیگر ڈسکوز کو صرف 15 فیصد دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے-الیکٹرک کو ٹی اینڈ ڈی لاسز، لا اینڈ آرڈر اخراجات اور ورکنگ کیپیٹل پر زیادہ مارک اپ کی غیر منصفانہ رعایت دی گئی ہے، جس کا براہ راست بوجھ صارفین پر پڑتا ہے۔
دیگر اعتراض کرنے والوں نے بھی مؤقف اپنایا کہ کے-الیکٹرک کے لیے سات سالہ کنٹرول پیریڈ برقرار رکھنا، جبکہ دیگر ڈسکوز کو یہ سہولت نہ دینا جانبداری کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ جاتی اخراجات غیر حقیقت پسندانہ اندازوں پر مبنی ہیں، جنہیں اصل کھپت اور اثاثہ جات کے استعمال سے مشروط ہونا چاہیے۔
سماعت میں یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ ٹیرف میں نظرثانی سالانہ بنیاد پر حقیقی رجحانات اور ٹیکنالوجی میں تبدیلیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی جائے تاکہ صارفین پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ ڈالا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025