قابلِ تجدید توانائی: ڈنمارک جنوری 2026 سے تین سالہ ایس ایس سی کے آغاز کیلئے تیار
ڈنمارک آئندہ سال جنوری سے پاکستان کے توانائی شعبے میں تین سالہ اسٹریٹجک سیکٹر کوآپریشن (ایس ایس سی) شروع کرنے جارہا ہے جس کا مقصد کم کاربن راستوں کی ترقی، کم لاگت پر این ڈی سیز پر عملدرآمد اور طویل المدتی ویری ایبل رینیوایبل انرجی اہداف کا تعین اور فروغ ہے، یہ تعاون، تکنیکی معاونت، معلومات کے تبادلے اور آگاہی پیدا کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے منتخب موضوعاتی شعبوں میں ماحوک دوست توانائی کی منتقلی اور ماحولیاتی تخفیف کے تحت کیا جائے گا۔
پاکستان میں ڈنمارک کے ناظم الامور، پیٹر ایمل نیلسن نے پاور ڈویژن کو ایک خط میں 18 اگست 2025 کو ڈنمارک انرجی ایجنسی کے اعلیٰ سطح وفد کا استقبال کرنے کی کوششوں کو سراہا ہے تاکہ پاکستان میں 2026-2028 کی مدت کے لیے ایک نئے ایس ایس سی پروگرام کی تیاری کا آغاز کیا جاسکے۔
پاکستان کے اپنے 5 روزہ مشن کے دوران، ڈنمارک کی انرجی ایجنسی اور اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارت خانے نے متعدد وزراء، حکومتی شراکت داروں، توانائی کمپنیوں، این جی اوز، تھنک ٹینکس، بین الاقوامی ڈونرز (جی آئی زیڈ، ورلڈ بینک)، اور دیگر سے ملاقاتیں کیں تاکہ نئے ایس ایس سی پروگرام کے تحت مستقبل میں تعاون کے لیے سب سے اہم موضوعات/شعبوں کو پیش کیا جا سکے اور ان پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں بہت نتیجہ خیز رہیں، جہاں نئے ایس ایس سی پروگرام کے لیے مثبت اور مضبوط حمایت کا اظہار کیا گیا۔ تین موضوعاتی شعبوں میں صلاحیت کی تعمیر اور تکنیکی معاونت کی زیادہ مانگ تھی: (i) توانائی کی منصوبہ بندی؛ (ii) قابل تجدید توانائی کا انضمام؛ اور (iii) صنعت میں توانائی کی کارکردگی (energy efficiency)، جس کی توقع ہے کہ ایس ایس سی پروگرام ڈی ای ٹی آئی (DETI) سے جاری رکھے گا۔
اس پیشرفت کو آگے بڑھاتے ہوئے، ڈنمارک کے سفارتخانے نے پاور ڈویژن کے ساتھ درج ذیل اگلے اقدامات تجویز کیے ہیں تاکہ ایس ایس سی کی بروقت اور ہموار منظوری کو یقینی بنایا جا سکے اور یکم جنوری 2026 تک اس کا باضابطہ آغاز کیا جا سکے:(i) پاور ڈویژن کو چاہیے کہ وہ ایس ایس سی پراجیکٹ ڈاکیومنٹ کنسلٹیشن نوٹ“ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، جن میں آئی ایس ایم او، این جی سی، این ای ای سی اے اور نیپرا وغیرہ شامل ہیں کے ساتھ شیئر کرے تاکہ وہ ایس ایس سی پروگرام کے نتائج کے فریم ورک پر اپنی تحریری رائے اور تجاویز جمع کراسکیں، یہ عمل جمعہ 26 ستمبر 2025 تک مکمل ہوجانا چاہیے۔(ii) پاور ڈویژن کو پاکستان میں ایس ایس سی پروگرام کی منظوری کے عمل اور نومبر 2025 میں ایم او یو پر دستخط کے تقاضوں کے حوالے سے اپنی رائے دینی چاہیے؛(iii) ایس ایس سی پروگرام کی نگرانی ایک اسٹیئرنگ کمیٹی کرے گی، جو سال میں ایک بار اجلاس منعقد کرے گی تاکہ سالانہ ورک پلانز اور پیش رفت رپورٹس کا جائزہ اور منظوری دی جا سکے، اور ضرورت پڑنے پر ضروری ترامیم کی جاسکیں۔
اسٹیئرنگ کمیٹی کی مشترکہ صدارت وزارت توانائی (پاور ڈویژن) اور پاکستان میں ڈنمارک کے سفیر کریں گے۔
سفارتخانے نے پاور ڈویژن سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی جانب سے ایک نمائندہ نامزد کرے جو مشترکہ چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے۔ مزید برآں، (iv) ایس ایس سی میں ایک امپلیمنٹنگ گروپ (IG) بھی شامل ہوگا جس میں پاور ڈویژن، نیپرا، آئی ایس ایم او، نییکا، ڈی ای اے اور ڈنمارک کے سفارتخانے کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ گروپ اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کے درمیان پروگرام کی سطح پر رابطہ کاری کا انتظام کرے گا۔ ہم مشکور ہوں گے اگر وزارت پاکستانی جانب سے آئی جی کے لیے نامزدگیاں بھی شیئر کر دے۔
پورے ایس ایس سی پروگرام کا بنیادی مقصد کم کاربن راستوں کی ترقی، کم لاگت پر این ڈی سی کے نفاذ اور طویل المدتی ویری ایبل رینیوایبل انرجی اہداف کے تعین اور ان میں توسیع ہے۔ یہ سب تعاون، تکنیکی معاونت، معلومات کے تبادلے اور آگاہی بڑھانے کے ذریعے منتخب موضوعاتی شعبوں میں سبز توانائی کی منتقلی اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی کے تناظر میں حاصل کیا جائے گا۔
یہ ایس ایس سی پروگرام پاکستان کو ایک حقیقت پسندانہ، پائیدار، کم لاگت اور کم کاربن توانائی کے امتزاج کی تیاری اور نفاذ میں معاونت فراہم کرتا ہے، جو اسے 2030 تک اپنے قومی ویری ایبل رینیوایبل انرجی اور انرجی ایفیشنسی اہداف کے حصول کے قابل بنائے گا۔
اس نتیجے میں 3 اہم نکات شامل ہیں:(i) طویل المدتی توانائی کی منصوبہ بندی؛(ii) ویری ایبل رینیوایبل انرجی کا انضمام؛ اور(iii) صنعتی شعبے میں توانائی کی بچت اور کارکردگی میں اضافہ۔
ڈنمارک سفارتخانے (اسلام آباد) کے قریبی تعاون سے ڈی ای اے پروگرام کے روزمرہ نفاذ کی نگرانی کرے گا جس میں اسٹیئرنگ کمیٹی کے لیے مواد کی تیاری بھی شامل ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025