پاکستان

پاکستان نے چین سے 700 اشیا پر یکطرفہ ٹیرف رعایتیں مانگ لیں

  • برآمدات میں تنوع محدود، اس حوالے سے مزید کوششیں درکار
شائع September 23, 2025 اپ ڈیٹ September 23, 2025 08:48am

پاکستان نے چین کے ساتھ جاری چائنا-پاکستان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (سی پی ایف ٹی اے) کے تیسرے مرحلے میں تقریباً 700 اشیا پر یکطرفہ ٹیرف رعایتیں دینے کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔ یہ انکشاف وزارتِ تجارت کے حکام نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں کیا، جس کی صدارت جاوید حنیف خان نے کی۔ اجلاس میں وزارتِ تجارت کے ایڈیشنل سیکریٹری (انچارج) سلمان مفتی نے بریفنگ دی۔

وزارت تجارت کے مطابق، سی پی ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے کے بعد پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوا، تاہم چین کے دیگر ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کے باعث پاکستان کی ترجیحی مارکیٹ تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔ وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ بیجنگ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں تاکہ پاکستان کو آسیان اور بنگلہ دیش کے برابر مارکیٹ تک رسائی دلائی جا سکے۔ ساتھ ہی زرعی پروٹوکولز اورسوست-خنجراب بارڈر پر گرین چینل کے قیام پر بھی بات چیت ہو رہی ہے تاکہ برآمدی عمل کو آسان بنایا جا سکے۔

فروغِ تجارت کے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ پاکستان کی برآمدات میں تنوع محدود ہے اور اس حوالے سے مزید کوششیں درکار ہیں۔ اس ضمن میں چین انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو، چین سپلائی چین ایکسپو اور پاکستان کے فلیگ شپ ایونٹس جیسے فوڈ ایگ، ہیماس اور ٹیکسپو میں شرکت کو مشترکہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی منتقلی اور گلوبل ویلیو چینز میں شمولیت کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ کمیٹی کے اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو خام مال کے بجائے ویلیو ایڈیڈ مصنوعات چین کو برآمد کرنی چاہئیں۔

اجلاس میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے کردار پر بھی بحث ہوئی۔ زبیر موتی والا، جاوید بلوانی اور جنید مکڈا نے مؤقف اپنایا کہ کے سی سی آئی کے اسٹیٹس میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے۔ اسد عالم نیازی نے نئے ڈسٹرکٹ چیمبرز کے قیام کی مخالفت کی، تاہم اختیار بیگ اور رمیش کمار ونکوانی نے اس کی حمایت کی۔ طویل بحث کے بعد کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کے سی سی آئی کو اپنی موجودہ حیثیت میں برقرار رکھا جائے گا جبکہ نئے ڈسٹرکٹ چیمبرز کو لائسنس جاری کیے جائیں گے۔

کمیٹی نے نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) کے لائسنس کی مدت 2019 میں ختم ہونے اور معاملہ 2025 میں اٹھائے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور سفارش کی کہ یہ مسئلہ وفاقی حکومت کو بھیجا جائے تاکہ وقت کی معافی کی جا سکے۔

اجلاس میں ایس آر او 760 پر وزارتِ تجارت کی تاخیر پر بھی برہمی کا اظہار کیا گیا، جس کی وجہ سے سونے کی برآمد اور درآمد معطل ہے۔ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت دی کہ وزیرِاعظم کے دفتر سے فوری رجوع کر کے معاملہ حل کیا جائے۔ ساتھ ہی اراکین نے سفارش کی کہ قیمتی پتھروں اور جیولری کے لیے ایک باقاعدہ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے۔

اجلاس کے دوران پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ (پی آر سی ایل) کے معاملات پر بھی بات ہوئی، جہاں سابق سی ای او کی جانب سے 500 ملین روپے کی زائد ادائیگی اور شکیل مگنیجو کے بورڈ اجلاسوں میں شمولیت پر سوالات اٹھائے گئے۔ کمیٹی نے معاملے پر جامع رپورٹ طلب کر لی۔

وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کی چین کو برآمدات 2024-25 میں 2.375 ارب ڈالر رہیں، جب کہ درآمدات کا حجم 17 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس سے بڑا تجارتی خسارہ برقرار ہے۔ اراکین نے زور دیا کہ پاکستان کو کاٹن اور تانبے جیسے خام مال کے بجائے ٹیکسٹائل، معدنیات اور گوشت جیسے ویلیو ایڈیڈ شعبوں پر توجہ دینی چاہیے، جس میں 5 ارب ڈالر کی برآمدی صلاحیت موجود ہے۔

اجلاس میں ملائیشیا، سری لنکا اور سارک ممالک کے ساتھ ایف ٹی ایز پر بھی جائزہ لیا گیا اور کہا گیا کہ ان معاہدوں کے باوجود پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ اراکین نے نشاندہی کی کہ کم ویلیو برآمدات، پرانے معاہدے، پیداواری لاگت میں اضافہ اور غیر ٹیرف رکاوٹیں بنیادی مسائل ہیں۔

کمیٹی نے زور دیا کہ پاکستان کے تجارتی معاہدوں کو کامیاب بنانے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات، ویلیو ایڈیڈ برآمدات اور بہتر احتسابی نظام ناگزیر ہیں، تاکہ مقامی بزنس کمیونٹی عالمی سطح پر مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025