تیل کی قیمتوں میں پیر کو معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جو یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث ہوا۔ تاہم، عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں اضافے کے خدشات اور تجارتی ٹیرف کے اثرات سے ایندھن کی طلب میں کمی کے اندیشے نے منڈی پر دباؤ میں اضافہ کیا۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 28 سینٹ یا 0.42 فیصد بڑھ کر 66.96 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 20 سینٹ یا 0.32 فیصد اضافے کے ساتھ 62.88 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔

ماہرین کے مطابق، روس کی جانب سے پولینڈ کی سرحد کے قریب جنگی کارروائیوں نے تاجروں کو توانائی کی سلامتی کے خطرات کی یاد دہانی کرائی ہے۔ ہفتے کو روسی فضائی حملوں کے بعد پولینڈ اور اس کے اتحادیوں نے اپنی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے طیارے تعینات کیے۔ اس سے قبل روسی فوجی طیاروں نے نیٹو ملک ایسٹونیا کی فضائی حدود 12 منٹ تک پامال کی، جبکہ جرمنی نے بھی روسی طیارے کی غیر جانبدار فضائی حدود میں داخلے کی اطلاع دی۔ اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کو اجلاس کرے گی۔

دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ میں چار مغربی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان پر اسرائیل کے سخت ردعمل نے خطے میں بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتوں میں 1 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی کیونکہ زیادہ سپلائی اور کمزور طلب کے خدشات غالب رہے۔ عراق نے اوپیک پلس کی رضاکارانہ کمی میں نرمی کے بعد برآمدات میں اضافہ کیا ہے۔ اگست میں عراقی برآمدات اوسطاً 3.38 ملین بیرل یومیہ رہیں، جبکہ ستمبر میں یہ 3.4 سے 3.45 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ، اوپیک پلس اور روس کی جانب سے پیداوار میں اضافہ مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہا ہے، تاہم تیل کی طلب کا انحصار جغرافیائی کشیدگی اور عالمی اقتصادی پالیسیوں پر رہے گا۔