مالیاتی اور ٹیکس قوانین کی تشریح میں الفاظ پر عمل لازم ہے، سپریم کورٹ
- جب کسی ٹیکس قانون کی شق واضح ہو تو عدالت اس میں کوئی اضافہ یا مفروضہ شامل نہیں کرسکتی، چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالیاتی یا ٹیکسیشن سے متعلق قوانین کی تشریح میں الفاظ پر عمل کا انداز اپنایا جائے گا اور جب کسی ٹیکس قانون کی شق واضح ہو تو عدالت اس میں کوئی اضافہ یا مفروضہ شامل نہیں کرسکتی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے، نے کمشنر ان لینڈ ریونیو کی اُس اپیل کی سماعت کی جو لاہور ہائی کورٹ کے 21 نومبر 2022 کے حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی۔
عدالتِ عظمیٰ نے کیس کو کمشنر اپیلز کے پاس واپس بھیجتے ہوئے قرار دیا کہ انہیں یہ مقدمہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 129(1)(a) کے دائرہ کار کے اندر رہ کر ہی فیصلہ کرنا ہوگا۔
جسٹس شفیع صدیقی کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ یہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ کسی بھی مالیاتی قانون یا اس کی شق کی تشریح میں قانون ساز کی نیت اُن الفاظ سے اخذ کی جاتی ہے جو اس میں درج ہوں۔ اگر الفاظ کا صرف ایک ہی مطلب واضح ہو تو عدالت کسی اور مفروضہ یا تشریح کی طرف نہیں جا سکتی۔ اگر قانون کے الفاظ صاف اور غیر مبہم ہوں تو عدالت کے لیے کسی اور مطلب کی گنجائش نکالنا درست نہیں، بلکہ انہیں بلا جھجک نافذ کرنا ہی لازم ہے۔ ہر قانون یا اس کی شق کی ایسی تعبیر کی جانی چاہیے کہ وہ موثر اور قابلِ عمل ہو۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فنانس ایکٹ 2005 کی ترمیم کے بعد یہ بات بالکل واضح ہے کہ کمشنر ان لینڈ ریونیو (اپیلز) کو یہ اختیار ہے کہ وہ اسیسمنٹ آرڈر کی تصدیق، ترمیم یا منسوخی کرسکتا ہے، کیونکہ اسے مزید وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ اس بنیاد پر کمشنر اپیلز کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ دفعہ 129 کے دائرہ اختیار سے آگے بڑھتے ہوئے معاملہ کسی نچلے فورم کو واپس بھیجے؛ بلکہ وہ پابند ہے کہ خود فیصلہ کرے اور وہ تمام اختیارات استعمال کرے جو قانون نے اسے دیے ہیں۔
اس کیس میں، ایڈیشنل کمشنر (آڈٹ)، ان لینڈ ریونیو (بطور اسیسنگ آفیسر) نے آرڈیننس کی دفعہ 122(5A) کے تحت ایم/ایس سیون اسٹار شوگر ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کراچی کے خلاف آرڈر پاس کیا۔ کمپنی نے اس کے خلاف کمشنر اپیلز کے سامنے اپیل دائر کی، جس میں قرار دیا گیا کہ ترمیم شدہ اسیسمنٹ آرڈر جلدبازی میں پاس کیا گیا تھا، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ کارروائی کے لیے واپس بھجوا دیا گیا۔
کمپنی اس فیصلے سے مطمئن نہ ہوئی اور مدت کی حد کی بنیاد پر اپیلٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو لاہور میں اپیل دائر کی، جسے منظور کر لیا گیا۔ ٹریبونل نے کہا کہ جب کمشنر اپیلز نے یہ قرار دے دیا کہ ترمیم شدہ اسیسمنٹ آرڈر درست نہیں تو پھر دوبارہ کارروائی کے احکامات جاری نہیں کیے جا سکتے، لہٰذا کمپنی کی اپیل منظور کرلی گئی۔
بعد ازاں، کمشنر نے اس فیصلے کے خلاف دفعہ 133(1) کے تحت ٹیکس ریفرنس لاہور ہائی کورٹ میں دائر کیا، جسے 25 نومبر 2022 کے فیصلے کے خلاف مسترد کر دیا گیا۔ اس پر کمشنر نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025