عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، اگرچہ دونوں بینچ مارکس مسلسل دوسرے ہفتے اضافے کے ساتھ اختتام کی راہ پر ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی فیڈرل ریزرو نے رواں سال پہلی بار شرح سود میں کمی کی، لیکن ایندھن کی طلب کے حوالے سے خدشات قیمتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
برینٹ کروڈ کے نومبر کے سودے 1 سینٹ کمی کے بعد 67.43 ڈالر فی بیرل پر آ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ فیوچرز 4 سینٹ کمی کے ساتھ 63.53 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے تھے۔
فیڈرل ریزرو نے بدھ کو پالیسی ریٹ میں 0.25 فیصد پوائنٹ کی کمی کی اور عندیہ دیا کہ مزید کمی بھی متوقع ہے تاکہ کمزور ہوتی لیبر مارکیٹ کو سہارا دیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی عام طور پر تیل کی طلب کو بڑھاتی ہے اور قیمتوں کو سہارا دیتی ہے۔
تاہم، امریکہ میں ڈسٹلیٹ اسٹاک میں 4 ملین بیرل کا اضافہ، جو مارکیٹ کی 1 ملین بیرل اضافے کی توقعات سے کہیں زیادہ تھا، نے دنیا کے سب سے بڑے صارف ملک میں ایندھن کی مانگ کے بارے میں تشویش بڑھا دی۔ اسی دوران امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ اور طویل المدتی بانڈز کی ییلڈ میں اضافہ بھی خام تیل کے لیے سپورٹ کو کمزور کر رہا ہے۔
معاشی اعداد و شمار نے بھی دباؤ میں اضافہ کیا۔ حالیہ بے روزگاری کلیمز سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکی لیبر مارکیٹ کمزور پڑ رہی ہے جبکہ سنگل فیملی ہاؤسنگ کی تعمیر میں اگست کے دوران دو سالہ کم ترین سطح دیکھی گئی۔
عالمی رسد کے حوالے سے، روسی وزارتِ خزانہ نے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مغربی پابندیوں سے بجٹ کو بچانے کے لیے نئی اسکیم متعارف کرائی، جس سے سپلائی خدشات کسی حد تک کم ہوئے۔ مزید برآں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے بھی دباؤ کو کم کیا کہ وہ روس پر پابندیوں کے بجائے کم قیمتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔