پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کے روز خریداری کا رجحان برقرار رہا، اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 800 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا، کیونکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد معاون عوامل کے باعث مثبت رہا۔

پورے کاروباری روز کے دوران مثبت رجحان غالب رہا، جس نے کے ایس ای 100 انڈیکس کو انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 156,467.91 پوائنٹس تک پہنچا دیا۔

کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 156,180.94 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 796.44 پوائنٹس یا 0.51 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

آٹو موبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، سیمنٹ، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، او ایم سیز، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری میں پھرپور خریداری کا رجحان ہے، اے آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، پی ایس او، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، ڈی جی کے سی، ایچ بی ایل، ایم سی بی، میبل اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے توقعات کے عین مطابق حالیہ سیلاب کے معیشت پر منفی اثرات کے پیشِ نظر پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 944.82 پوائنٹس یا 0.61 فیصد اضافے سے 155,384.51 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

بین الاقوامی سطح پر ایشیائی اسٹاکس میں منگل کو اضافہ دیکھا گیا جب کہ ڈالر دباؤ کا شکار رہا کیونکہ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو اس ہفتے اپنی آسان مالیاتی پالیسی کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے گا اور ممکنہ طور پر مزید شرح سود میں کٹوتیوں کے دروازے کھلے رکھے گا۔

مارکیٹس پر زیادہ ردعمل نہیں دیکھا گیا اس خبر پر کہ امریکی سینیٹ نے معمولی اکثریت سے اسٹیفن میرَن کو فیڈ کے بورڈ آف گورنرز میں مقرر کرنے کی منظوری دی ہے جبکہ امریکی اپیلز کورٹ نے علیحدہ فیصلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیڈ گورنر لیزا کُک کو برطرف کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

دونوں فیصلوں کو ایسے اقدامات سمجھا جارہا ہے جو فیڈ کے بدھ کے فیصلے پر کسی بڑی تبدیلی کا باعث نہیں بنیں گے جہاں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی پہلے ہی متوقع ہے۔

فیڈ کی جانب سے جلد شرح سود میں کمی کی توقعات نے حالیہ سیشنز میں مارکیٹ کا رجحان پرجوش رکھا ہے اور اسٹاکس کو نئی بلندیاں چھونے پر مجبور کیا ہے۔

ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک (جاپان کے علاوہ) کا سب سے وسیع انڈیکس منگل کی صبح 4 سال سے زائد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اور آخری بار 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ ہوا جبکہ جاپان کے نکئی اور ٹاپکس انڈیکس نے بھی نئی ریکارڈ سطح حاصل کیں۔

مارکیٹس کیلئے اتنا ہی اہم فیڈ اراکین کی شرح سود سے متعلق ”ڈاٹ پلاٹ“ پروجیکشنز اور فیڈ چیئرمین جیروم پاول کی یہ رہنمائی ہوگی کہ مزید نرمی کس حد اور کس رفتار سے کی جائے گی۔

فیوچرز مارکیٹ میں جولائی 2026 تک 127 بیسس پوائنٹس کی کمی پہلے ہی متوقع ہے، اس لیے اگر فیڈ کا مؤقف نرم نہ ہوا تو سرمایہ کار مایوس ہوسکتے ہیں۔

انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ اپنی مثبت رفتار برقرار رکھتے ہوئے معمولی اضافہ کے ساتھ 281.51 روپے پر بند ہوا۔

آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم منگل کو بڑھ کر 1.356 ارب شیئرز تک جا پہنچا، جو پچھلے کاروباری روز کے 857.61 ملین شیئرز تھا۔ حصص کی مالیت بھی بڑھ کر 43.28 ارب روپے رہی، جو گزشتہ سیشن میں 32.72 ارب روپے تھی۔

ورلڈ کال ٹیلی کام 125.67 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سرفہرست رہا، اس کے بعد بینک آف پنجاب ایکس ڈی کے 112.34 ملین شیئرز اور پاک انٹرنیشنل بلک کے 77.88 ملین شیئرز کا نمبر رہا۔

منگل کو مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے شیئرز میں کاروبار ہوا، جن میں سے 280 کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 178 کے حصص میں کمی جبکہ 25 کمپنیوں کے نرخ بغیر تبدیلی کے بند ہوئے۔