کئی روز سے سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع وصول کرنے کے رجحان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو دوبارہ خریداری کا رجحان دیکھنے میں آیا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 940 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
ٹریڈنگ کے دوران مثبت رجحان برقرار رہا جس کی بدولت کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران بلند ترین سطح 155,602.29 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 155,384.50 پوائنٹس پر مستحکم ہوا جو 944.82 پوائنٹس یا 0.61 فیصد کا اضافہ ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ کے مطابق ایف ایف سی، یو بی ایل اور حب کوآل کے مضبوط کارکردگی نے مجموعی طور پر انڈیکس کو 448 پوائنٹس بڑھانے میں مدد دی، تاہم حبیب بینک (ایچ بی ایل)، بینک الفلاح (بی اے ایچ ایل) اور اینگرو ہولڈنگ کے حصص میں گراوٹ کے باعث ان میں سے 91 پوائنٹس کم ہوکر انڈیکس کی پیش رفت کو محدود کردیا۔
اہم پیش رفت کے حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے مارکیٹ کی توقعات کے مطابق پیر کو پالیسی شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی آئندہ اجلاس میں بھی شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گی کیونکہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔
گزشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس جو 30 جون 2025 کو منعقد ہوا تھا، میں کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا کیونکہ مہنگائی کا منظرنامہ کچھ خراب ہوگیا تھا جو توانائی کی قیمتوں، خصوصاً گیس ٹیرف میں توقع سے زیادہ اضافے کے بعد سامنے آیا تھا۔
گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جہاں انڈیکس کبھی نئی بلند ترین سطح پر گیا تو کبھی منافع سمیٹنے کے رجحان کا شکار رہا۔
ہفتہ وار بنیاد پر بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس نے دورانِ ٹریڈنگ تاریخ کی بلند ترین سطح 157,817 پوائنٹس کو چھوا تاہم بعد میں منافع سمیٹنے کے رجحان کے باعث یہ نیچے آگیا اور ہفتہ 154,440 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار بنیادوں پر 163 پوائنٹس یا 0.1 فیصد معمولی اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر پیر کو ایشیائی مارکیٹوں میں حصص کا آغاز پرسکون انداز میں ہوا، ایک ایسے ہفتے سے قبل جو سرگرمیوں سے بھرپور دکھائی دے رہا ہے، جہاں امکان ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو اپنے ریٹ میں کمی کے سلسلے (ایزنگ سائیکل) کو دوبارہ شروع کرے اور ممکنہ طور پر مزید کٹوتیوں کے لیے بھی دروازہ کھلا چھوڑ دے۔
کینیڈا کے مرکزی بینک کو بھی اس ہفتے شرحِ سود میں ایک چوتھائی پوائنٹ کمی کی توقع ہے جب کہ چین کا مرکزی بینک سست معیشت کے باعث اپنی ایک مارکیٹ ریٹ میں کٹوتی کرسکتا ہے۔
جاپان اور برطانیہ کے مرکزی بینکوں کے اجلاس بھی متوقع ہیں تاہم ان کے پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
مارکیٹ اندازوں کے مطابق فیڈرل ریزرو کی جانب سے 25 بیسس پوائنٹس کی شرح میں کمی تقریباً یقینی سمجھی جارہی ہے جس سے فنڈز ریٹ 4.0 سے 4.25 فیصد تک آجائے گا جبکہ فیوچرز صرف 4 فیصد امکان ظاہر کررہے ہیں کہ کمی 50 بیسس پوائنٹس تک ہوسکتی ہے۔
فیوچرز میں پہلے ہی 125 بیسس پوائنٹس کی کمی کا امکان شامل ہے، لہٰذا اس سے کم نرم مؤقف سرمایہ کاروں کو مایوس کرے گا۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے سوا ایشیا پیسیفک حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.1 فیصد گر گیا۔
انٹر بینک مارکیٹ میں پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے مثبت رجحان برقرار رکھا اور روپیہ کی قدر میں 0.01 فیصد کی معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 281.52 روپے کی سطح پر بند ہوا، جو امریکی کرنسی کے مقابلے میں 3 پیسے کا اضافہ ہے۔ یہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کا 27واں لگاتار اضافہ ہے۔
آل شیئر انڈیکس پر حجم میں کمی واقع ہوئی اور یہ 987.59 ملین سے گھٹ کر 857.61 ملین ہو گیا۔ جبکہ شیئرز کی کل مالیت 39.91 ارب روپے سے کم ہو کر 32.72 ارب روپے رہ گئی۔
پیس (پاک) لمیٹڈ نے 77.81 ملین شیئرز کے ساتھ حجم میں سبقت حاصل کی، اس کے بعد بینک آف پنجاب ایکس ڈی نے 58.23 ملین اور پاک انٹرنیشنل بلک نے 53.41 ملین شیئرز کا حجم ریکارڈ کیا۔
پیر کو مجموعی طورپر 482 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 243 کے نرخ بڑھے، 205 کے گرے اور 34 کمپنیوں کے نرخ مستحکم رہے۔