پنجاب ایگری کلچر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق صوبے میں خریف کی فصلیں ہر سال تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ ایکڑ زرعی رقبے پر کاشت کی جاتی ہیں۔ اس موسم میں تقریباً 13 لاکھ ایکڑ زمین پانی کے نیچے ہے، جو کل رقبے کا آٹھ فیصد سے بھی کم ہے۔

یہ کہنا ہرگز مقصد نہیں کہ ان 13 لاکھ ایکڑ زمین پر کسان خاندانوں کو درپیش تباہی کو کم تر سمجھا جائے۔ مگر یہ دعویٰ کرنا کہ 60 فیصد چاول اور ایک تہائی کپاس یا گنے کی فصلیں سیلاب سے تباہ ہو گئی ہیں، صریحاً غلط بیانی ہے۔ ایسے دعوے جہالت، دانستہ مبالغہ آرائی، یا ٹیکس ریلیف، مالی امداد، یا نرم قرضوں کی صورت میں بیل آؤٹ حاصل کرنے کی لابنگ کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں۔

یقین کیجیے 13 لاکھ ایکڑ کا نقصان بہت سنگین ہے۔ خریف کی فصلوں کی فی ایکڑ آمدنی ڈیڑھ لاکھ روپے سے ساڑھے تین لاکھ روپے تک ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ کم از کم 300 ارب روپے کی کھڑی فصلیں برباد ہو گئی ہیں۔ یہ دیہی برادریوں، گھریلو آمدنی اور صوبائی معیشت پر بہت بڑا دھچکا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر یہ پنجاب کی خریف پیداوار کا 10 فیصد سے بھی کم ہے۔

اس کے باوجود کم فیصدی نقصان بھی اہم ہوتے ہیں۔ کسی بھی بڑی فصل کے صرف پانچ فیصد رقبے کی تباہی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جا سکتی ہے اور براہِ راست افراطِ زر کو متاثر کر سکتی ہے۔ لیکن اکثر بحث بہت جلد صارفین کی قیمتوں پر منتقل ہو جاتی ہے—جو زیادہ تر شہری آبادی کو متاثر کرتی ہیں—اور ان کسان خاندانوں کی آمدنی اور اثاثوں کے نقصان کو نظر انداز کر دیتی ہے جنہوں نے سب کچھ کھو دیا۔ ان کا بحران محض معاشی نہیں بلکہ وجودی ہے۔

نقصان کا جغرافیہ اپنی الگ کہانی سناتا ہے۔ جب آٹھ فیصد سے بھی کم زرعی زمین ڈوبی ہے تو متاثرہ علاقے نشیبی خطے، دریائی پٹ، کچا اور دریا کے کنارے ہیں۔ یہ ہمیں پھر اسی نکتے پر لے آتا ہے: اگر پالیسی سازی کا مقصد ایسے جھٹکوں کے اثرات کو کم کرنا ہے تو ہمیں یہ مشکل کام شروع کرنا ہوگا کہ پانی کے راستے سے ہٹ جائیں۔ ان زمینوں پر کبھی بھی شدید کاشت کاری نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ان کا بہترین استعمال زیرِ زمین پانی اور مٹی کے لیے قدرتی ریچارج بیسنز کے طور پر ہے، نہ کہ چاول اور گنے جیسی نقد آور فصلوں کے قلیل مدتی کارخانوں کے طور پر۔

یہ تبدیلی راتوں رات ممکن نہیں۔ وہ کسان جو دریائی پٹ چھوڑنے پر مجبور ہوں گے، ان کو اتنی ہی پیداواری زمین درکار ہوگی، اور یہ ان کا حق بھی ہے۔

لیکن بجائے اس کے کہ ریاست امدادی کیمپوں میں جوتے اور ٹوپیاں بانٹے جیسے کوئی موجودہ دور کا خلیفہ ہارون الرشید ہو، اسے یہ مشکل کام شروع کرنا ہوگا کہ بلند خطرے والے علاقوں میں انسانی انفراسٹرکچر کو دوبارہ سوچے اور پرامن طور پر مستقل آبادیاں ہٹانے کے مہنگے عمل کا آغاز کرے۔ ساتھ ہی جون سے ستمبر کے درمیان خطرے کے مہینوں میں دریائی پٹ میں کاشت پر فوری پابندی لگائی جائے۔

ذرا سوچیے: اگر اب ہر دہائی کے بجائے ہر دو سال بعد سیلاب آتے ہیں تو کوئی عقلمند قرض دہندہ دریائی پٹ میں کھیتوں کو کیسے فنانس کرے گا؟ چاہے پاکستان میں فصل بیمہ عام بھی ہوتا، ایسی زمین کے لیے پریمیم آسمان کو چھوتے۔ کوئی سنجیدہ انشورنس کمپنی اس خطرے کو سستا نہیں رکھتی۔ اس کے برعکس ظاہر کرنا کسانوں سے ان کے مستقبل کے بارے میں جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔

اور اگر یہ زمین واقعی اتنی پیداواری ہے کہ ضائع نہیں کی جا سکتی تو پھر اس پر اگائی جانے والی فصلوں پر کیوں نظرِ ثانی نہ کی جائے؟ سبزیاں یا چارہ اور باغبانی کی فصلیں جو مون سون کے بعد بوئی جائیں اور جون تک کاٹی جائیں، ممکن ہیں۔ پنجاب کا نو ماہ کا موسم دو مختصر سائیکل فصلوں کے لیے کافی ہے۔ ہاں، زمین کی قیمت کم ہو سکتی ہے۔ مگر زمین کی قیمتیں ہر جگہ بدلتی ہیں: ہر نئی نہر، ہر نئی موٹر وے، ہر نئے منصوبے کے بعد۔ کیا واقعی یہ دنیا کا اختتام ہے اگر یہ تبدیلی آب و ہوا کی وجہ سے ہو؟

وفاقی کابینہ نے اگرچہ ماحولیاتی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے، لیکن اصل ایمرجنسی اسلام آباد میں تخیل کی کمی ہے۔ آخر ہم نوآبادیاتی دور کے فصلوں کے پیٹرن یا آدھی صدی پرانے ڈونر ٹیمپلیٹس میں کیوں پھنسے رہیں؟ ”نارمل“ بدل چکا ہے۔ ہماری کاشتکاری کے انتخاب نہیں بدلے۔

جی ہاں، امیر ممالک پاکستان پر کلائمیٹ جسٹس کے مقروض ہیں۔ لیکن ہمارا کم کاربن فٹ پرنٹ فخر کا نشان نہیں بلکہ پسماندگی کی علامت ہے۔ سیلاب تو تب بھی آتے اگر پاکستان نے دوسروں کے ساتھ صنعتی ترقی کی ہوتی۔ کیا ہم پھر بھی اصرار کرتے کہ ذمہ داری کسی اور پر ہے جبکہ ہمارے کسان ڈوب رہے ہوتے؟

ماحولیاتی غیر یقینی صورتحال یہاں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان موافقت اور تخیل کو چنتا ہے یا پھر ہاتھ پھیلائے اسی بہانے کو دہراتا رہے گا جبکہ کسان اور کھیت بہہ جائیں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025