دنیا

ٹرمپ کے ایلچی کو آئندہ چند ہفتوں میں بھارت کے ساتھ ٹیرف تنازع حل ہونے کی امید

  • ٹرمپ نے بھارتی درآمدات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیے، بھارت پر روسی تیل خرید کر یوکرین جنگ کو تقویت دینے کا الزام
شائع اپ ڈیٹ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے جنوبی ایشیا سرجیو گور نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف روسی تیل کی خریداری پر عائد امریکی ٹیرف کے معاملے پر تنازع آئندہ چند ہفتوں میں حل ہو سکتا ہے۔

امریکی سینیٹ کمیٹی میں بطور امریکا کے مجوزہ سفیر برائے بھارت اپنی نامزدگی کے دوران سماعت میں گور نے کہا کہ “میرا یقین ہے کہ یہ معاملہ اگلے چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا۔”

انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ صدر ٹرمپ بھارتی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی وزیراعظم نریندر مودی پر ذاتی تنقید نہیں کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ”جب صدر نے بھارت پر تنقید کی، تو انہوں نے وزیراعظم مودی کی تعریف کرنے کا بھی خاص خیال رکھا۔ ان کے درمیان زبردست تعلقات ہیں۔ میں خود ان دونوں کے ساتھ ایک ہی کمرے میں موجود رہا ہوں۔ ٹیرف سے متعلق معاہدے پر ہم زیادہ دور نہیں ہیں۔“

یاد رہے ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی درآمدات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیے تھے اور بھارت پر روسی تیل خرید کر یوکرین پر روسی حملے کو بالواسطہ تقویت دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

سابق امریکی صدر اور موجودہ دور میں دوبارہ منصب پر فائز ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی درآمدات پر 50 فیصد تک کے بھاری ٹیرف عائد کر دیے ہیں اور الزام لگایا ہے کہ نئی دہلی روس سے تیل خرید کر یوکرین پر ماسکو کے حملے کو بالواسطہ تقویت دے رہا ہے۔ روس سرد جنگ کے دور سے بھارت کا اتحادی رہا ہے۔

ٹرمپ نے بھارت پاکستان کے مابین مئی میں ہوئے تنازع کے بعد جنگ بندی میں اپنے کردار کا وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے براہ راست اعتراف نہ کیے جانے پر ناراضی کا اظہار بھی کیا ہے۔

جنوری میں دوبارہ صدارت سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے ٹیرف کو نہ صرف تجارتی تنازعات بلکہ یوکرین جنگ جیسے عالمی مسائل کے خلاف ایک وسیع سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔

امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لوٹ نک نے جمعرات کو سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ “بھارت کو اپنی منڈی کھولنی ہوگی اور روسی تیل کی خریداری بند کرنی ہوگی۔”

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ “ہمارا تائیوان کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ ہونے والا ہے اور شاید سوئٹزرلینڈ کے ساتھ بھی تجارتی معاہدہ طے پا جائے گا۔”

واضح رہے کہ تائیوان اور سوئٹزرلینڈ پر بھی اگست کے اوائل سے اضافی ٹیرف لاگو ہو چکے ہیں۔