زرعی شعبے میں موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے 90 ملین ڈالر کا اکیومن فنڈ، وزیرِ خزانہ کو بریفنگ
اکیومن پاکستان نے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو آگاہ کیا ہے کہ وہ 90 ملین ڈالر کے ایگری کلچر ریزیلنس فنڈ پر کام کو تیز کررہے یہں جو ایک مخلوط مالیاتی سہولت کے طور پر ملک کے زرعی شعبے میں موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
سی ای او اور اکیومن فنڈ پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر عائشہ خان نے اپنی ٹیم کے ہمراہ جمعرات کو وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر کو پاکستان کے لیے اے آر ایف کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ یہ فنڈ زرعی شعبے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ پاکستان، جو دنیا کے سب سے زیادہ موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں شامل ہے، اپنی زرعی معیشت کے لیے سنگین چیلنجز کا سامنا کررہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جدید مالیاتی ماڈلز زرعی شعبے کی موافقت کی صلاحیت کو بڑھانے، غذائی تحفظ کو بہتر بنانے اور دیہی زندگی کے معیار کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اکیومن، جسے اکیومن فنڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک غیر منافع بخش اثرات سرمایہ کاری فنڈ ہے جس کی بنیاد 2001 میں جیکلین نووگراتز نے رکھی تھی۔ یہ فنڈ سوشل انٹرپرائزز میں سرمایہ کاری کرتا ہے جو کم آمدنی والے افراد کو توانائی، زراعت اور صحت جیسے شعبوں میں خدمات فراہم کرتی ہیں۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے لیے اکیومن کی مسلسل وابستگی کو خوش آمدید کہا اور تنظیم کی کوششوں کو سراہا، جو غذائی نظام کو مضبوط بنانے، اسمارٹ فارمنگ کو فروغ دینے اور زرعی کاروبار میں ہدف شدہ سرمایہ کاری کے ذریعے کسانوں کی لچک بڑھانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے اکیومن کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت ایسے سرمایہ کاری اقدامات کی حمایت کرے گی جو پاکستان کے پائیدار ترقی اور موسمیاتی لچک کے ایجنڈے کے مطابق ہوں۔
اکیومن کے بورڈ اراکین اور عالمی سرمایہ کاروں پر مشتمل اعلیٰ سطح وفد آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں اہم اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کی جا سکے، خاص طور پر ملک کے بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک اشارے اور مستقبل کی سمت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔
دونوں جانب سے پاکستان میں مضبوط اور پائیدار زرعی شعبے کی ترقی کے لیے تعاون کو مزید فروغ دینے کا عزم دہرایا گیا۔