پاکستان میں صنعتیں تیزی سے متبادل توانائی کی طرف منتقل ہو رہی ہیں اور اسی سلسلے میں بیکو اسٹیل لمیٹڈ نے بھی نیا قدم اٹھایا ہے۔ کمپنی نے ایک رینیوایبل انرجی سلوشنز فراہم کرنے والی کمپنی کے ساتھ 2 میگاواٹ سولر پاور جنریشن سسٹم لگانے کا معاہدہ کیا ہے، جو لاہور کے بادامی باغ میں واقع اس کے پلانٹ پر نصب کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس میں ظاہر کی گئی۔

نوٹس میں کہا گیا کہ ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ بیکو اسٹیل لمیٹڈ نے 2 میگاواٹ سولر پاور جنریشن سسٹم کی تنصیب کے لیے ایک رینیوایبل انرجی سلوشنز فراہم کنندہ کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔

کمپنی کے مطابق، اس منصوبے پر کل سرمایہ لاگت تقریباً 121 ملین روپے آئے گی، جبکہ اس سے توانائی کے اخراجات میں سالانہ تقریباً 129.65 ملین روپے کی بچت متوقع ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف پیداواری لاگت میں نمایاں کمی اور آپریشنل افادیت میں اضافہ کرے گی بلکہ کاربن فوٹ پرنٹ کم کرکے ماحولیاتی پائیداری پر بھی مثبت اثر ڈالے گی۔ کمپنی کے مطابق، یہ اقدام طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد پائیدار آپریشنز کو فروغ دینا اور شیئر ہولڈرز کی ویلیو میں اضافہ کرنا ہے۔

بیکو اسٹیل لمیٹڈ، جسے پہلے راوی ٹیکسٹائل ملز کے نام سے جانا جاتا تھا، پاکستان میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ یہ کمپنی اسٹیل کی ایک مکمل انٹیگریٹڈ پروڈیوسر ہے جو اسکریپ سے لے کر بلٹ اور اسپیشلٹی اسٹیل سمیت مختلف مصنوعات تیار کرتی ہے۔

پاکستان میں حالیہ برسوں میں متبادل توانائی بالخصوص سولر کی جانب رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گھریلو اور تجارتی شعبوں میں سولر تیزی سے مقبول ہوا ہے، جس کے اثرات پر پالیسی ساز بھی غور کر رہے ہیں کیونکہ بجلی کی مجموعی کھپت تقریباً جمود کا شکار ہے۔

تاہم، کم لاگت توانائی کے اس ذریعے سے فائدہ اٹھانے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ کوہ نور ملز لمیٹڈ نے 7.2 میگاواٹ سولر پاور سسٹم لگانے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل دیوان سیمنٹ لمیٹڈ نے کراچی میں اپنی فیکٹری میں 6 میگاواٹ سولر سسٹم کامیابی سے فعال کیا۔

مئی میں انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ نے اپنی کراچی فیکٹری میں 6.4 میگاواٹ سولر منصوبہ مکمل کر کے چالو کیا، جبکہ مارچ میں طارق کارپوریشن لمیٹڈ نے اپنی فیکٹری میں 200 کلو واٹ سولر پاور سسٹم لگانے کا اعلان کیا تھا۔