دنیا

امریکا کا وینزویلا کے منشیات بردار جہاز پر حملہ، 11 افراد ہلاک

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی فوج نے وینزویلا کے ایک جہاز پر حملہ کیا ہے جس پر مبینہ طور پر غیر قانونی...
شائع September 3, 2025 اپ ڈیٹ September 3, 2025 12:22pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی فوج نے وینزویلا کے ایک جہاز پر حملہ کیا ہے جس پر مبینہ طور پر غیر قانونی منشیات موجود تھیں اور اس کارروائی میں 11 افراد مارے گئے ہیں۔ یہ ان کی انتظامیہ کے جنوبی کیریبین میں حالیہ جنگی جہاز کی تعیناتی کے بعد اس خطے میں پہلی فوجی کارروائی ہے۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے ابھی کچھ دیر پہلے ایک کشتی کو تباہ کیا ہے جو منشیات لے جا رہی تھی اور اس میں بڑی مقدار میں منشیات موجود تھی۔ ہمارے ملک میں کافی عرصے سے منشیات آ رہی ہیں، جو زیادہ تر وینزویلا سے آ رہی تھیں۔

بعد ازاں صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ایک اسپیڈ بوٹ پر ڈرون حملہ دکھایا گیا اور وہ پھٹنے کے بعد جل رہا تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے عملے کی شناخت وینزویلا کے گینگ ’ٹرین ڈی اراگوا‘ کے ارکان کے طور پر کی ہے جسے امریکہ نے فروری میں ایک دہشت گرد گروپ قرار دیا تھا۔ صدر نے اس بات کو بھی دہرایا کہ ’ٹرین ڈی اراگوا‘ کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کنٹرول کر رہے ہیں، تاہم وینزویلا کی حکومت نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔

وینزویلا کے وزیرِ مواصلات فریڈی نانیز نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو اے آئی کے ذریعے بنائی گئی ہے۔

رائٹرز نے ویڈیو کی ابتدائی جانچ کی جس میں کسی قسم کی تبدیلی کے شواہد نہیں ملے تاہم مکمل تصدیقی عمل جاری ہے اور مزید معلومات موصول ہونے پر فوٹیج کا جائزہ لیا جائے گا۔

پنٹاگون نے حملے کی تفصیلات جاری نہیں کیں، جن میں یہ شامل ہے کہ جہاز پر کس قسم کی منشیات تھیں، کتنی مقدار تھی، یا حملہ کس طریقے سے انجام دیا گیا۔

کیریبین سے گزرنے والے مشتبہ منشیات بردار جہاز کو تباہ کرنے کا فیصلہ انتہائی غیر معمولی ہے کیونکہ عملے کو گرفتار کرنے یا جہاز قبضے میں لینے کی بجائے براہِ راست حملہ کیا گیا، جو امریکہ کی القاعدہ جیسے عسکری گروپوں کے خلاف کارروائی کی یاد دلاتا ہے۔

واشنگٹن آفس آن لاطینی امریکہ کے ڈائریکٹر برائے دفاعی نگرانی، ایڈم ایساکسن نے کہا کہ منشیات لے جانے کا شبہ ہونا موت کی سزا نہیں دیتا۔

امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں جنوبی کیریبین میں جنگی جہاز تعینات کیے ہیں تاکہ ٹرمپ کے منشیات کارٹیلز کے خلاف وعدے پر عمل درآمد کیا جا سکے۔ منگل کے حملے کے بعد یہ پہلی اس نوعیت کی فوجی کارروائی معلوم ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں امریکی فورسز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اس کارروائی میں 11 دہشت گرد مارے گئے۔