عالمی بینک کے تعاون سے 55 ترقیاتی منصوبے جاری، قائمہ کمیٹی کا پارلیمانی نگرانی بڑھانے پر زور
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کو آگاہ کیا گیا ہے کہ عالمی بینک کی مالی معاونت سے اس وقت ملک بھر میں 55 ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔
کمیٹی کا اجلاس چیئرمین عبدالقادر گیلانی کی زیرِ صدارت ہوا جہاں ارکان کو عالمی بینک گروپ کے ساتھ جاری تعاون پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
عہدیداران نے بتایا کہ عالمی بینک فنڈنگ سے چلنے والے 55 منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے، تاہم ارکان نے اس پر تشویش ظاہر کی کہ منصوبوں کی ترجیحی فہرست کے تعین میں عوامی نمائندوں کو شامل نہیں کیا جاتا۔ ارکان نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کئی ڈونر فنڈڈ اسکیمیں براہِ راست صوبائی حکومتوں کے ذریعے چلائی جا رہی ہیں، جس میں پارلیمانی مشاورت ناکافی ہے۔
کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ پنجاب اور سندھ کے منصوبہ بندی و ترقیاتی محکمے خصوصی بریفنگ کے لیے طلب کیے جائیں۔
ارکان نے ڈونر فنڈڈ منصوبوں کے انتخاب اور عمل درآمد میں پارلیمانی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا اور اس امر کی نشاندہی کی کہ شہری شعبے کو اکثر بین الاقوامی معاونت کی تقسیم میں نظرانداز کیا جاتا ہے۔
اجلاس کے دوران بلوچستان میں انٹیگریٹڈ فلڈ ایمرجنسی منصوبے کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
ایک علیحدہ ایجنڈے کے تحت کمیٹی نے ملتان ایل پی جی دھماکے پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے اقدامات کا جائزہ لیا۔
ارکان نے متاثرین کے لیے معاوضہ میکانزم کو سراہا اور ہدایت دی کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اعداد و شمار کی کراس ویریفکیشن کی جائے۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے محدود بیڑے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت صرف دو اے ٹی آر طیارے فعال ہیں۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے محدود بیڑے پر بھی کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت صرف دو اے ٹی آر طیارے فعال ہیں، جس سے بالخصوص جنوبی روٹس پر رابطے کی کمی عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
کمیٹی نے پی آئی اے کو ہدایت دی کہ ملتان-کوئٹہ سمیت اہم علاقائی روٹس پر پروازیں بحال کرے اور بیڑے میں توسیع کو ترجیح دے، خاص طور پر نجکاری کے جاری عمل کے تناظر میں۔
پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے تحلیل ہونے کے بعد ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت پر بریفنگ دیتے ہوئے ارکان نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ بارہا فنڈز مختص ہونے کے باوجود زمین پر ترقیاتی کام نظر نہیں آرہا اور رقوم غیر استعمال شدہ واپس جا رہی ہیں۔
ارکان نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ بار بار فنڈز مختص کیے جانے کے باوجود یہ رقم استعمال نہیں ہو رہی اور زمینی سطح پر ترقیاتی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔
وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو ہدایت دی گئی کہ فنڈز کی تخصیص، اخراجات اور حاصل شدہ اہداف کا مکمل ریکارڈ پیش کرے۔ مزید یہ کہ پاکستان انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کو ذیلی کمیٹی کے نئے ایجنڈے میں شامل کرنے اور زیر التوا امور کو مرکزی کمیٹی میں واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025