تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی آئی، تاہم پورے ہفتے کے دوران مجموعی طور پر قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ عالمی مارکیٹ میں امریکی طلب میں کمی کی توقعات اور روسی تیل کی دستیابی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ امریکی مارکیٹ، جو دنیا کی سب سے بڑی تیل صارف ہے، میں موسم گرما کی طلب کے اختتام کے باعث تیل کی کھپت میں کمی کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔
برینٹ کروڈ آئل کی اکتوبر ڈیلیوری کی فیوچرز جمعہ کو 50 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 68.12 ڈالر پر بند ہوئی، جبکہ زیادہ طلب والے نومبر کا کنٹریکٹ 46 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 67.52 ڈالر پر رہا۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ آئل 45 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 64.15 ڈالر پر بند ہوا۔ تاہم دونوں اشاریے گزشتہ روز اضافہ دکھا چکے ہیں۔ برینٹ کی قیمت ہفتے کے دوران 0.6 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی کی 0.8 فیصد اضافے کے لیے تیار ہے۔
ہفتے کے آغاز میں قیمتیں اس وقت بڑھی جب یوکرائن نے روس کے تیل کے ایکسپورٹ ٹرمینلز پر حملے کیے، لیکن بعد ازاں امریکی موسم گرما کی ڈرائیونگ سیزن کے اختتام اور بڑے پیدا کنندگان کی جانب سے پیداوار میں اضافے کے باعث مارکیٹ میں کمی دیکھنے کو ملی۔
نیسان سیکیورٹیز کے چیف اسٹریٹجسٹ ہیرویُوکی کیکوکاوا کے مطابق، لیبر ڈے کے بعد امریکی ایندھن کی طلب میں کمی کے خدشات مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس پر ممکنہ سخت پابندیوں اور بھارت پر امریکی ٹیرف کے اثرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار بڑے پوزیشن لینے سے گریز کر رہے ہیں۔
یوکرائن کے حملے کے بعد روس کا یو ایس ٹی-لگا ٹرمینل ستمبر میں تقریباً نصف پیداواری صلاحیت یعنی 350,000 بیرل روزانہ تک کم ہو جائے گا۔ روسی حملے کے بعد امریکی ممکنہ پابندیوں کا خدشہ بھی برقرار ہے۔ بھارت پر امریکی دباؤ کے باوجود ستمبر میں روسی تیل کی درآمد میں اضافہ متوقع ہے۔ سعودی عرب نے بھی ایشیائی خریداروں کے لیے اکتوبر کے تیل کی قیمتیں کم کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
مزید برآں، روس سے ہنگری اور سلوواکیہ کو ڈروژبا پائپ لائن کے ذریعے تیل کی سپلائی بحال ہو گئی ہے، جو گزشتہ ہفتے یوکرائنی حملے کے بعد متاثر ہوئی تھی۔