امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ وہ رواں سال شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کے خواہاں ہیں اور جنوبی کوریا کے ساتھ مزید تجارتی مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں، حالانکہ انہوں نے اپنے اتحادی پر تنقید بھی کی۔ وائٹ ہاؤس میں جنوبی کوریا کے نئے صدر لی جے میونگ سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ وہ مناسب وقت پر کم جونگ اُن سے ملنے کے منتظر ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان جولائی میں ہونے والے تجارتی معاہدے کے باوجود توانائی، فوجی اخراجات اور سرمایہ کاری پر اختلافات برقرار ہیں۔ ملاقات کے موقع پر کورین ایئر نے 103 بوئنگ طیاروں کی خریداری کا اعلان کیا، جو اس کی تاریخ کا سب سے بڑا آرڈر ہے۔

شمالی کوریا نے ٹرمپ کے بیان پر فوری ردعمل نہیں دیا لیکن اپنی میڈیا رپورٹس میں امریکا-جنوبی کوریا فوجی مشقوں کو قبضے کی تیاری قرار دیا۔ کم جونگ اُن نے اب تک ٹرمپ کی مذاکراتی پیشکشوں کو نظرانداز کیا ہے۔

صدر لی نے ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ کوریا کو امن دلانے والے رہنما بنیں گے۔ انہوں نے ٹرمپ کو اکتوبر میں اےپیک اجلاس میں شرکت اور کم سے ملاقات کی دعوت بھی دی۔

ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ امریکا جنوبی کوریا سے مزید دفاعی اخراجات کا مطالبہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 28,500 امریکی فوجیوں کی موجودگی برقرار رکھنا ایک اہم مسئلہ ہے۔