تیل کی قیمت 3 ہفتوں کی بلند ترین سطح سے 2 فیصد نیچے آ گئی، روسی سپلائی کے خدشات زیرِ غور
- برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت میں 1.28 ڈالر (1.9 فیصد) کی کمی، نئی قیمت 67.52 ڈالر پر آ گئی
عالمی منڈی میں منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد کمی دیکھی گئی، جو ایک روز قبل اتنی ہی شرح سے بڑھی تھیں۔ سرمایہ کار یوکرین جنگ کی تازہ پیش رفت اور روسی ایندھن کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 1.28 ڈالر (1.9 فیصد) کمی کے ساتھ 67.52 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جب کہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) تیل 1.30 ڈالر (2 فیصد) کمی کے ساتھ 63.50 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ یہ قیمتیں پیر کے روز اگست کے اوائل کے بعد کی بلند ترین سطح پر تھیں۔
توانائی سے متعلق مشاورتی فرم رِٹر بش اینڈ ایسوسی ایٹس کے مطابق اس ہفتے کی تجارتی سرگرمیوں میں مرکزی موضوع یہ ہے کہ امریکہ، بھارت پر عائد درآمدی محصولات کو دوگنا کر کے 50 فیصد تک کر سکتا ہے، ممکنہ طور پر کل ہی سے۔ یہ اقدام ان روسی برآمدات پر مزید قدغن لگا سکتا ہے جو پہلے ہی یوکرینی حملوں کے باعث متاثرہ روسی ریفائنریوں کے باعث محدود ہو چکی ہیں۔
بھارت، روسی خام تیل کا تیسرا سب سے بڑا خریدار ہے، اور موجودہ حالات میں اس کی برآمدات کو امریکی محصولات کے تحت 50 فیصد تک ڈیوٹیز کا سامنا ہو سکتا ہے، جو واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ سب سے بلند نرخوں میں شمار ہوتی ہیں۔
پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں جو اضافہ دیکھنے میں آیا، وہ زیادہ تر ان سپلائی خدشات کی بنیاد پر تھا جو یوکرین کی جانب سے روسی توانائی تنصیبات پر حملوں اور روسی تیل پر ممکنہ امریکی پابندیوں سے جنم لے رہے ہیں۔
روس کی جانب سے یوکرینی گیس اور بجلی کے نظام پر مسلسل حملوں کے جواب میں یوکرین نے روسی ریفائنریوں پر ڈرون حملے کیے، جس کے باعث روس کے تیل کی پراسیسنگ اور برآمدات متاثر ہوئیں، اور بعض علاقوں میں پٹرول کی قلت دیکھنے میں آئی۔
ذرائع کے مطابق روس نے اگست کے لیے مغربی بندرگاہوں سے خام تیل کی برآمدات کا منصوبہ 2 لاکھ بیرل یومیہ بڑھا دیا ہے کیونکہ ریفائنریوں پر حملوں کے باعث پراسیسنگ کم ہوئی، اور اضافی خام تیل برآمد کے لیے دستیاب ہو گیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ دو ہفتوں میں یوکرین میں امن معاہدے کی جانب کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو وہ روس پر نئی پابندیاں عائد کر سکتے ہیں۔
تاہم رائٹرز کے ذرائع کے مطابق حالیہ امن مذاکرات کے موقع پر امریکی اور روسی حکام کے درمیان توانائی سے متعلق کئی معاملات پر پسِ پردہ بات چیت بھی ہوئی ہے۔
توانائی تجزیہ کار تاماش ورگا (پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس) کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ اور تجارتی کشیدگیوں کے باعث تیل کی منڈی میں بے یقینی بہت زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار فی الوقت کوئی واضح سمت اختیار کرنے کو تیار نہیں۔“
انہوں نے کہا کہ درمیانی مدت میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں 65 سے 74 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
قبل ازیں برینٹ کروڈ فیوچرز 16 سینٹ یعنی 0.23 فیصد کمی کے ساتھ 68.64 ڈالر فی بیرل پر آ گیا تھا جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فیوچرز بھی 16 سینٹ یا 0.25 فیصد گر کر 64.64 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ دونوں کنٹریکٹس نے پیر کو دو ہفتوں سے زائد کی بلند ترین سطح کو چھوا تھا اور ڈبلیو ٹی آئی فیوچرز 100 روزہ موونگ ایوریج سے اوپر جا پہنچا تھا۔
ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات موجود ہیں، خاص طور پر اگر قیمتیں 64 سے 65 ڈالر فی بیرل کی مزاحمتی حد سے اوپر برقرار رہیں۔ پیر کو قیمتوں میں اضافہ بنیادی طور پر یوکرین کے روسی توانائی انفرااسٹرکچر پر حملوں اور امریکہ کی جانب سے روسی تیل پر مزید پابندیوں کے خدشات کے باعث ہوا۔
ان حملوں سے ماسکو کی آئل پروسیسنگ اور برآمدات متاثر ہوئیں اور روس کے کچھ حصوں میں پٹرول کی قلت پیدا ہوئی۔ یہ کارروائیاں ماسکو کی محاذ پر پیش قدمی اور یوکرین کے گیس و بجلی کے ڈھانچے پر شدید حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
بینک بارکلیز نے اپنے کلائنٹس کے لیے جاری نوٹ میں کہا کہ جغرافیائی کشیدگی اور نسبتاً مضبوط بنیادی عوامل کے باعث تیل کی قیمتیں محدود دائرے میں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ دو ہفتوں میں امن معاہدے کی جانب پیش رفت نہ ہوئی تو روس پر نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
دوسری جانب سرمایہ کار امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے تازہ ترین انوینٹری ڈیٹا کے منتظر ہیں، جس میں توقع ہے کہ خام تیل اور پٹرول کے ذخائر میں کمی آئے گی جبکہ ڈیزل اور دیگر ڈسٹلیٹ مصنوعات کے ذخائر میں اضافہ ممکن ہے۔