عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ یوکرین کی جانب سے روس پر ڈرون حملوں میں تیزی اور اس کے نتیجے میں روسی تیل کی سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات بتائے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی امریکہ میں شرح سود میں کمی کی توقعات نے عالمی معیشت اور ایندھن کی طلب کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا دیا۔

برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 0.09 فیصد بڑھ کر 67.79 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 0.14 فیصد اضافے سے 63.75 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

روس نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین کے ڈرون حملے کے نتیجے میں اس کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹس میں سے ایک کے ری ایکٹر کی صلاحیت میں کمی آئی، جبکہ اوسٹ-لوگا فیول ایکسپورٹ ٹرمینل پر شدید آگ بھڑک اٹھی۔ اسی طرح نووشاختنسک ریفائنری، جو سالانہ 5 ملین میٹرک ٹن تیل برآمد کرتی ہے، چوتھے روز بھی آگ کی لپیٹ میں رہی۔

مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق، یوکرین کی روسی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے میں کامیابی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ روس نے یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکراتی تصفیے میں “اہم رعایتیں” دی ہیں اور مان لیا ہے کہ وہ کیف میں اپنی مرضی کی حکومت قائم نہیں کر سکے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے یوکرین کی علاقائی سالمیت کے لیے سیکیورٹی ضمانت کو بھی تسلیم کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر دو ہفتوں میں امن معاہدے کی پیش رفت نہ ہوئی تو روس پر نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

علاوہ ازیں، فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے آئندہ ماہ شرح سود میں ممکنہ کمی کے اشارے کے بعد سرمایہ کاروں کی دلچسپی اجناس کی عالمی منڈیوں میں مزید بڑھ گئی ہے۔