امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ امریکا یوکرین میں زمینی فوج نہیں بھیجے گا، تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ بطور امن معاہدے کے حصے کے، امریکا فضائی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک روز قبل وائٹ ہاؤس سربراہی اجلاس میں ٹرمپ نے یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم جنگ کا خاتمہ ہنوز غیر یقینی ہے اور امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس بات پر غور کر رہا ہے کہ فوجی مدد کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ یورپی ممالک زمینی فوج بھیجنے پر آمادہ ہیں، جبکہ امریکا خاص طور پر فضائی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی اس امکان کی تصدیق کی مگر تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

اسی دوران روس نے یوکرین پر ایک ماہ سے زائد عرصے کا سب سے بڑا فضائی حملہ کیا، جس میں 270 ڈرون اور 10 میزائل داغے گئے۔ یوکرینی حکام کے مطابق اس سے توانائی کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے وائٹ ہاؤس مذاکرات کو اہم پیش رفت قرار دیا اور ممکنہ سہ فریقی ملاقات کے اشارے دیے جس میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور ٹرمپ شامل ہو سکتے ہیں۔ ممکنہ اجلاس کے لیے ہنگری اور استنبول کا ذکر کیا گیا، جبکہ سوئٹزرلینڈ نے بھی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔

تاہم پوٹن کی جانب سے کسی ملاقات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ایسے اجلاسوں کی تیاری انتہائی احتیاط سے ہونی چاہیے، محض میڈیا کی توجہ کے لیے نہیں۔

ماہرین کے مطابق روس یہ جنگ طویل کر سکتا ہے تاکہ امریکا کے دباؤ کو کمزور کیا جا سکے، جبکہ تمام فریقین اس بات سے گریز کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کے امن عمل میں رکاوٹ دکھائی دیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے سیکیورٹی ضمانتوں سے متعلق بیانات اتنے مبہم ہیں کہ انہیں سنجیدگی سے لینا مشکل ہے۔