گیٹرون انڈسٹریز کا نووا فرنٹیئرز اور غنی اینڈ طیب کے ساتھ اسکیم آف ارینجمنٹ واپس لینے کا فیصلہ
گیٹرون انڈسٹریز لمیٹڈ (جی اے ٹی آئی) نے بدھ کو اعلان کیا کہ اس نے نووا فرنٹیئرز لمیٹڈ (این ایف ایل) اور غنی اینڈ طیب (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی اینڈ ٹی) کے ساتھ مجوزہ اسکیم آف ارینجمنٹ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ پیش رفت بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے کمپنی کے نوٹس میں ظاہر کی گئی۔
جی اے ٹی آئی کے مطابق، این ایف ایل اور جی اینڈ ٹی نے حالیہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اسکیم میں اس کا کردار صرف انتظامی اور ضمنی نوعیت کا تھا کیونکہ بنیادی لین دین مذکورہ دونوں کارپوریٹ شیئر ہولڈرز اور ان کے حصص داروں کے درمیان ہونا تھا۔
نوٹس میں مزید بتایا گیا کہ کمپنی کے بورڈ نے سرکولر ریزولوشن کے ذریعے اس اسکیم کی پہلے دی گئی منظوری بھی واپس لے لی ہے۔
جی اے ٹی آئی نے وضاحت کی کہ اسکیم کی واپسی سے کمپنی کے دیگر حصص داروں، کاروباری سرگرمیوں یا اثاثوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
اس کے ساتھ ہی اسکیم میں شامل فریقین بلوچستان ہائی کورٹ میں پہلے سے دائر کی گئی کارروائی واپس لینے کا عمل شروع کریں گے۔
گیٹرون انڈسٹریز لمیٹڈ کو 1980 میں پاکستان میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر شامل کیا گیا اور یہ اپنی تیار کردہ پولیسٹر پولیمر/چپس کے ذریعے پولیسٹر فلیمنٹ یارن کی تیاری میں مصروف ہے۔
1980 میں قائم ہونے والی گیٹرون انڈسٹریز لمیٹڈ پولیسٹر فلیمنٹ یارن کی تیاری میں مصروف ہے۔
اس کے علاوہ کمپنی پی ای ٹی پریفارمز، ریزنز، بوتلیں، بی او پی ای ٹی فلم، شیٹس، فیشن ملبوسات اور ہوم ٹیکسٹائلز بھی تیار کرتی ہے۔