پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے منگل کے سیشن میں ابتدائی مضبوط منافع کے بعد آخرکار ہموار کارکردگی کا مظاہرہ کیا کیونکہ سرمایہ کاروں نے کے ایس ای 100 انڈیکس کے ریکارڈ انٹرا ڈے بلند ترین سطح 147,976.98 پوائنٹس پر پہنچنے کے بعد منافع وصولی کو ترجیح دی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 147,005.32 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا، جو 75.48 پوائنٹس یا 0.05 فیصد کے معمولی اضافے کے برابر ہے۔
ماہرین نے سرمایہ کاروں کے پر اعتماد رویے کی وجہ حوصلہ افزا کارپوریٹ آمدنی اور پاکستان کے توانائی کے شعبے میں متوقع امریکی سرمایہ کاری کی اطلاعات کو قرار دیا ہے۔
کاروبار میں آٹو موبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیز (او ایم سیز) سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ نمایاں کمپنیوں میں ماری، پی او ایل، پی ایس او، ایس ایس جی سی، ایس این جی پی ایل، ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل اور یو بی ایل کے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ ہو رہے تھے۔
امریکا سے واپسی پر غیر رسمی گفتگو میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو جلد مختلف شعبوں میں امریکا سے خاطر خواہ سرمایہ کاری کی خوشخبری ملے گی۔ انہوں نے امریکی حکام کے ساتھ تجارتی مذاکرات کو پاکستان کے لیے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک درست سمت میں گامزن ہے اور اس کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
گزشتہ روز پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا غلبہ رہا، جب بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,547.05 پوائنٹس یا 1.06 فیصد اضافے کے ساتھ 146,929.84 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر منگل کو بیشتر ایشیائی مارکیٹوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان ٹیرف ٹرُوس میں توسیع تھی، جبکہ جاپانی اسٹاک مارکیٹ طویل تعطیل کے بعد ٹیکنالوجی شیئرز کے زور پر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو چین کے ساتھ ٹیرف ٹرُوس میں مزید 90 دن کی توسیع کر دی، جس سے چینی مصنوعات پر مجوزہ تین ہندسوں والے ٹیرف عارضی طور پر مؤخر ہو گئے۔ یہ اقدام سرمایہ کاروں اور مارکیٹوں کی توقعات کے مطابق تھا۔
گزشتہ ہفتوں میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے ممکنہ شرح سود میں کمی، مضبوط امریکی کارپوریٹ منافع اور تجارتی شراکت داروں پر امریکی ٹیرف پالیسی میں وضاحت جیسے عوامل سے تقویت ملی ہے۔
جاپان کا نکئی انڈیکس ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا اور آخری اطلاعات کے مطابق یہ 2 فیصد اوپر تھا، جب کہ مارکیٹ پیر کے عوامی تعطیل کے بعد دوبارہ کھلی اور رواں سال دیگر عالمی انڈیکسز کی کارکردگی کے ساتھ ہم آہنگ رہی۔
آسٹریلیا کا بینچ مارک انڈیکس بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، ایسے وقت میں جب مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرح سود میں کمی کے فیصلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کا وسیع تر انڈیکس معمولی بہتری پر رہا، جب کہ چین کے بلیو چپ اسٹاکس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 0.1 فیصد نیچے آیا۔