ورلڈ بینک نے نشاندہی کی ہے کہ وزارتِ اطلاعات ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز)، جو کہ ”ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ“ کے 78 ملین ڈالر کے فنانسنگ معاہدے میں طے شدہ ہیں، تاحال زیر التوا ہیں۔

بینک کی دستاویزات میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں پراجیکٹ کے نفاذ کرنے والے اداروں اور سروس فراہم کنندگان کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر زور دیا گیا ہے تاکہ صوبائی اور مقامی حکومتوں کی خدمات کو شامل کیا جا سکے۔

نفاذ کی صورتِ حال اور نتائج کی رپورٹ کے مطابق منصوبے نے اچھی پیشرفت کی ہے۔ تین مختص اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں، رقوم کی ترسیل شروع ہو گئی ہے، منصوبے کا عملہ بھرتی کر لیا گیا ہے، اور اہم مشاورتی و آئی ٹی انفراسٹرکچر کی خریداری کے عمل جاری ہیں۔

وفاقی حکومت نے قومی ڈیٹا ایکسچینج لیئر اور ڈیجیٹل شناختی نظام کے قیام کو ترجیحی حیثیت دی ہے، تاہم صوبائی اور مقامی خدمات کو شامل کرنے کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں میں مزید مضبوط ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

وزارتِ اطلاعات ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، ورلڈ بینک کے تعاون سے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ پر عمل درآمد کر رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد شہریوں اور کاروباروں کے لیے ڈیجیٹل سہولت سے آراستہ سرکاری خدمات کی فراہمی کی حکومتی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ کا مقصد پوری حکومت کا نقطہ نظر تجویز کرنا ہے، تاکہ ایسا فریم ورک اور ٹیکنالوجی تیار کی جا سکے جو پاکستان بھر میں ڈیجیٹل خدمات تک رسائی اور ان کے استعمال کو فروغ دے۔

اس منصوبے کے تحت پاکستان ڈیجیٹل گورنمنٹ انٹرپرائز آرکیٹیکچر تیار کی جائے گی، جو موجودہ طریقہ کار سے آگے بڑھ کر حکومتی نظام تشکیل دے گی، جس میں ٹیکنالوجی، کاروبار، معلومات اور سروس ڈیزائن کے شعبوں میں کردار اور ذمہ داریاں متعین کرنے کے ساتھ ساتھ بنیادی اصول طے کیے جائیں گے۔

یہ ڈیجیٹائزیشن نہ صرف شہریوں اور کاروباروں کو سہولت فراہم کرے گی بلکہ شفافیت میں اضافہ، پراسیسنگ کے اخراجات میں کمی، اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ٹیکس وصولی کی صلاحیت میں اضافہ بھی ممکن بنائے گی، جو حکومت کے ترجیحی مقاصد میں شامل ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025