عالمی منڈی میں بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، تیل کی قیمتیں منگل کو پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح پر بند ہونے کے بعد دوبارہ بحال ہو گئیں۔ یہ اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر روسی خام تیل کی خریداری پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد ممکنہ سپلائی میں خلل کے خدشات کے باعث ہوا۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 29 سینٹ یعنی 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 67.93 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 28 سینٹ بڑھ کر 65.44 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
اس سے قبل منگل کو دونوں بینچ مارک کنٹریکٹس میں ایک ڈالر سے زائد کی کمی دیکھی گئی تھی، جو اوپیک پلس کی جانب سے ستمبر میں پیداوار میں اضافے کے منصوبے پر مارکیٹ میں سپلائی زیادہ ہونے کے خدشے کے باعث ہوئی۔
نومورا سیکیورٹیز کے ماہر معاشیات یوکی تاکاشیما کے مطابق، سرمایہ کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا بھارت امریکی دباؤ پر روسی تیل کی خریداری کم کرے گا یا نہیں۔ اگر بھارت کی درآمدات میں کمی واقع ہوتی ہے تو عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار بھارت کے عملی ردعمل پر ہوگا۔
اوپیک پلس نے اتوار کو ستمبر کے لیے یومیہ 547,000 بیرل پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت تنظیم اپنی حالیہ پیداوار میں کمی کو قبل از وقت ختم کر دے گی۔
دوسری جانب امریکہ، روس پر دباؤ ڈالنے اور یوکرین میں جنگ ختم کرانے کے لیے بھارت سے روسی تیل کی خریداری روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔ بھارت نے ٹرمپ کی دھمکی کو ”غیرمنصفانہ“ قرار دیتے ہوئے اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کا اعلان کیا ہے۔
اس دوران، امریکی پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی تیل کے ذخائر میں 4.2 ملین بیرل کی کمی آئی، جو کہ مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ امریکی توانائی اطلاعاتی ادارہ بدھ کو حتمی اعداد و شمار جاری کرے گا۔