پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں سرمایہ کاروں کے پراعتماد رویے کے باعث خریداری کا رجحان منگل کو بھی جاری رہا جس کے نتیجے میں دوران ٹریڈنگ کے ایس ای 100 انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 43 ہزار کی بلند سطح عبور کرگیا۔
ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 143,281.34 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بھی جاپہنچا تھا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 984.52 پوائنٹس یا 0.69 فیصد اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار 143,037.16 پر بند ہوا۔
آٹوموبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، سیمنٹ، فرٹیلائزر اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) مثبت زون میں ٹریڈ کر رہی تھیں جب کہ ایس این جی پی ایل، وافی، انڈو، ایم سی بی، میزان بینک اور یو بی ایل جیسے بڑے شیئرز بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
یاد رہے کہ پیر کو اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروبار کا اختتام مثبت رجحان کے ساتھ ہوا۔ مضبوط کارپوریٹ پیش رفت، اہم شعبوں میں بہتر مالی نتائج کی توقعات اور سرمایہ کاروں کے مسلسل اعتماد نے تیزی کے رجحان کو فروغ دیا۔
گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,017 پوائنٹس یا 0.72 فیصد اضافے سے 142,052.65 پوائنٹس کی تاریخی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر ایشیائی مارکیٹوں میں منگل کو مسلسل دوسرے روز بھی شیئرز میں اضافہ دیکھا گیا جبکہ امریکی ڈالر نے اپنی زیادہ تر کمی برقرار رکھی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو سہارا دینے کے امکانات پر اپنی توقعات بڑھا دیں۔
پیر کو امریکی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی جس کی وجہ عمومی طور پر مثبت آمدنی رپورٹس اور جمعہ کو جاری ہونے والے مایوس کن روزگار کے اعداد و شمار کے بعد ستمبر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات میں اضافہ تھا۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا، جس کی بڑی وجوہات اوپیک پلس کی جانب سے تیل کی پیداوار میں اضافہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت پر ٹیرف بڑھانے کی دھمکی ہیں، یہ دھمکی بھارت کو روسی تیل کی خریداری پر دی گئی ہے۔
دوسری جانب جاپان کے نکئی انڈیکس میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی وجہ جولائی میں جاپان کے سروس سیکٹر کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ بتایا گیا ہے۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے سوا ایشیا پیسیفک ممالک کا وسیع تر انڈیکس ابتدائی تجارتی سیشن میں 0.6 فیصد بڑھا، جبکہ نکئی انڈیکس پیر کے روز دو ماہ کی سب سے بڑی گراوٹ کے بعد 0.5 فیصد بہتر ہوا۔
امریکہ میں مالیاتی منڈیوں کے اشاروں کے مطابق ستمبر میں شرح سود میں کمی کے امکانات 94 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، جو کہ 28 جولائی کو 63 فیصد تھے۔
سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق سال کے اختتام تک کم از کم دو بار 0.25 فیصد کی کمی متوقع ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ اب شرح سود میں کمی کی زیادہ شدت سے توقع کر رہی ہے۔
ادھر پاکستانی روپیہ نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی بہتری کا سلسلہ جاری رکھا۔ منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں روپیہ 0.03 فیصد مضبوط ہوا اور 9 پیسے کے اضافے کے ساتھ ڈالر کے مقابلے میں 282.57 روپے پر بند ہوا۔
تاہم پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان غالب رہا۔ آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم کم ہو کر 549.72 ملین شیئرز رہ گیا، جو کہ گزشتہ سیشن میں 666.37 ملین تھا۔
شیئرز کی مجموعی مالیت بھی کم ہو کر 37.04 ارب روپے رہی، جو گزشتہ اجلاس میں 42.92 ارب روپے تھی۔
کاروباری حجم کے اعتبار سے فوجی سیمنٹ سرِفہرست رہا، جس کے 3 کروڑ 17 لاکھ 10 ہزار شیئرز کا کاروبار ہوا۔ اس کے بعد فرسٹ داؤد پراپرٹیز کے 2 کروڑ 47 لاکھ 80 ہزار اور انویسٹ بینک کے 1 کروڑ 81 لاکھ 10 ہزار شیئرز کا لین دین ہوا۔
منگل کے روز کل 484 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 239 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 217 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں کمی جبکہ 28 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔