مارکٹس

اوور سپلائی کے خدشات برقرار، تیل کی قیمتوں میں معمولی رد بدل

عالمی منڈی میں منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں معمولی ردبدل دیکھا گیا، جب کہ مسلسل تین دن کی گراوٹ کے بعد سرمایہ کار...
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں معمولی ردبدل دیکھا گیا، جب کہ مسلسل تین دن کی گراوٹ کے بعد سرمایہ کار اوور سپلائی کے خدشات کا شکار رہے۔ اوپیک پلس کی جانب سے ستمبر میں تیل کی پیداوار میں بڑے اضافے کے فیصلے نے مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا، تاہم روسی سپلائی میں ممکنہ خلل نے قیمتوں کو کچھ حد تک سہارا دیا۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 68.76 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی قیمت 2 سینٹ کمی کے ساتھ 66.27 ڈالر فی بیرل رہی۔ دونوں کنٹریکٹس گزشتہ سیشن میں 1 فیصد سے زائد گر کر ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر بند ہوئے تھے۔

اوپیک پلس، جو دنیا کی نصف سے زائد تیل پیداوار پرکنٹرول رکھتا ہے، نے کئی سال تک پیداوار محدود رکھی تھی تاکہ مارکیٹ میں استحکام قائم رکھا جا سکے۔ تاہم، رواں سال تنظیم نے مارکیٹ شیئر دوبارہ حاصل کرنے کے لیے پیداوار میں تیزی سے اضافہ کیا۔ اتوار کو ہونے والے فیصلے کے تحت، اوپیک پلس نے ستمبر کے لیے یومیہ 547,000 بیرل تیل اضافی نکالنے کی منظوری دی، جو کہ ماضی کی بڑی کٹوتیوں کی مکمل واپسی کی نشاندہی کرتا ہے۔

دوسری جانب، امریکہ نے بھارت پر روسی تیل کی خریداری بند کرنے کا دباؤ بڑھا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد سیکنڈری ٹیرف لگانے کی دھمکی دی ہے، جو جولائی میں بھارتی درآمدات پر عائد کیے گئے 25 فیصد ٹیرف کے بعد ایک سخت اقدام ہوگا۔ بھارت، روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور جنوری سے جون تک روزانہ تقریباً 1.75 ملین بیرل درآمد کرتا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی تجارتی پالیسیوں میں مزید سختی عالمی معیشت کو سست کر سکتی ہے، جس سے ایندھن کی طلب پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔