سالانہ بنیاد پر کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں 4.07 فیصد اضافے نے کچھ لوگوں کو حیران ضرور کیا، مگر ایسا ہونا نہیں چاہیے تھا۔اگر توانائی کی مقررہ قیمتوں میں تبدیلیاں درست انداز میں کی جائیں، تو جولائی 2025 کے لیے سی پی آئی پر سب سے زیادہ اثر انہی تبدیلیوں کا پڑنا تھا۔ تاہم، بہت سے افراد نے یکم جولائی 2025 سے نافذ ہونے والی قدرتی گیس کی قیمتوں میں باریک تبدیلیوں کو نظرانداز کر دیا — کیونکہ خبروں کی سرخیوں کا زور صرف اس بات پر رہا کہ بنیادی نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
بی آر ریسرچ نے اس پیش رفت پر گہری نظر رکھی، اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) نے اس بار غفلت نہیں برتی، بلکہ گھریلو گیس ٹیرف میں مؤثر مگر غیر نمایاں تبدیلیوں کو بھی مدِنظر رکھا۔ یاد رہے کہ حکومت نے پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں صارف گروپس کے لیے فکسڈ ریٹس میں اضافہ کیا تھا، ساتھ ہی کم از کم چارجز میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا گیا تھا۔
چونکہ پروٹیکٹڈہ صارفین گھریلو گیس کے تمام صارفین کا کم از کم 60 فیصد ہیں — اس لیے سی پی آئی پر شہری طبقے میں اس کا اثر خاصا نمایاں ہونا ہی تھا۔ سب سے نچلے طبقے کے لیے گزشتہ ہفتہ وار ایس پی آئی میں بھی 30 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا، جو درست محسوس ہوتا ہے۔ پی بی ایس کو اس تبدیلی کو درست طور پر ظاہر کرنے پر داد دی جانی چاہیے۔
گیس کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافہ جولائی میں ماہانہ شہری سی پی آئی میں 3.45 فیصد اضافے میں سب سے بڑا محرک رہا — اور یہ کل ماہانہ اضافے میں 41 فیصد حصہ دار رہا۔ یہ نومبر 2023 کے بعد سب سے بلند ماہانہ اضافہ ہے۔ اندازہ لگائیں نومبر 2023 میں کیا ہوا تھا؟ جی ہاں، گیس کی قیمتوں میں ایک ہی بار میں 280 فیصد کا اضافہ کیا گیا تھا۔
بجلی کی قیمتوں میں اضافہ بھی ایک بڑا محرک رہا، جو ماہانہ بنیاد پر 14 فیصد تک بڑھا — جو کہ گزشتہ 19 ماہ کی بلند ترین شرح ہے۔ یہ اس کے باوجود ہوا کہ جولائی 2025 میں بنیادی ٹیرف کم کیے گئے تھے۔ یہ اضافہ دراصل اپریل 2025 میں اعلان کردہ فی یونٹ 1.71 روپے کی سبسڈی کے خاتمے کی عکاسی کرتا ہے۔
آئی ایم ایف سے کیے گئے حکومتی وعدے کے مطابق یہ سبسڈی مالی سال 2026 کے پورے عرصے تک برقرار رہنی تھی — لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ البتہ، اگلی چند سہ ماہیوں میں ماہانہ قیمتوں میں تبدیلیاں کافی حد تک محدود رہنے کا امکان ہے، کیونکہ منفی پیریاوڈک ایڈجسٹمنٹ متوقع ہے۔
دیہی علاقوں میں جولائی میں ماہانہ بنیاد پر 2.15 فیصد اضافہ گزشتہ سال جولائی کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔ یہاں سب سے بڑا فرق خوراک (فوڈ باسکٹ) نے ڈالا، جس میں 3 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اس میں تازہ سبزیوں کا کردار سب سے نمایاں رہا، جن کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر 56 فیصد کا ریکارڈ اضافہ رپورٹ ہوا۔
یہ کیٹیگری شہری سی پی آئی میں ماہانہ اضافے میں 40 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔ پی بی ایس اس کیٹیگری میں 15 سے زائد سبزیوں کی قیمتوں کا جائزہ لیتا ہے۔ ہفتہ وار ایس پی آئی میں صرف لہسن کی قیمت شائع ہوتی ہے، جس میں 14 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا — اس سے اشارہ ملتا ہے کہ بھنڈی، پالک، گاجر یا لیموں جیسی اشیاء کی قیمتوں میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہوگا۔
دیہی اور شہری سی پی آئی کے فرق کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دیہی ٹوکری میں قدرتی گیس شامل نہیں، بلکہ اس کی جگہ جلانے کی لکڑی آتی ہے، جس کی قیمتوں میں تبدیلی کی رفتار نسبتاً سست ہوتی ہے۔ وزن کی شراکت کے لحاظ سے خوراک کے علاوہ شعبہ (نان فوڈ) دونوں علاقوں میں 90 فیصد سے زیادہ حصہ دار ہے۔ خوراک کی ٹوکری میں، اگر کوئی غیر معمولی واقعہ نہ ہو، تو ماہانہ قیمتوں میں اضافہ مستقبل میں نارمل سطح پر آ جائے گا، کیونکہ یہ زیادہ تر جلد خراب ہونے والی اشیاء پر مشتمل ہوتی ہے — خاص طور پر سبزیاں، جن کا وزن دیہی ٹوکری میں 4 فیصد اور شہری ٹوکری میں 3 فیصد ہے۔
تاہم، بنیادی مہنگائی (کور انفیلیشن) اب بھی اپنی جگہ موجود ہے — اور نیچے آنے کو تیار نہیں۔ شہری علاقوں میں یہ سالانہ بنیاد پر 7 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.1 فیصد پر برقرار ہے۔ مالی سال 2026 کے لیے عمومی افراط زر کے حوالے سے حتمی اندازہ لگانا ابھی جلدی ہو گا، لیکن اگر مالی سال کا اختتام اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد ہدف کے قریب ہوتا ہے، تو یہ سی پی آئی ریبیسنگ کے بعد پہلا موقع ہو گا کہ سالانہ افراط زر سنگل ڈیجٹ پر رہے گا، حالانکہ ماہانہ اضافہ 2.5 فیصد سے زیادہ ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025