عالمی بینک نے کہا ہے کہ ”پاکستان ریز ریوینیو“ منصوبے کے تحت ٹیکس اصلاحات کے کچھ اہم اہداف، جنہیں ڈسبرسمنٹ لنکڈ انڈیکیٹرز (ڈی ایل آئیز) کہا جاتا ہے، مقررہ ہدف سے پیچھے ہیں، جن میں ود ہولڈنگ ٹیکس (ڈبلیو ایچ ٹی) کی اقسام میں کمی، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا نفاذ، اشیاء و خدمات کی تعریف کا ہم آہنگ بنانا، اور تمام شعبوں کیلئے سنگل پورٹل کا اجرا شامل ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق عالمی بینک نے 400 ملین ڈالر مالیت کے اس منصوبے کی مجموعی پیشرفت کو ”درمیانے درجے کی اطمینان بخش“ قرار دیا ہے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ان ڈی ایل آئیز پر عملدرآمد میں درپیش چیلنجز کو دور کرنے اور پیشرفت بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق اب تک اس منصوبے کے تحت 328.75 ملین ڈالر یعنی 83.22 فیصد فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ 66.28 ملین ڈالر کی رقم تاحال غیر اجرا شدہ ہے۔ منصوبے میں مزید بہتری کے لیے جون 2025 میں بینک نے اضافی 70 ملین ڈالر کی منظوری دی ہے، جس سے منصوبے کی مجموعی مالیت 470 ملین ڈالر ہو گئی ہے۔
بینک نے کہا ہے کہ منصوبے کے مجموعی ترقیاتی مقاصد کے حصول کی طرف اطمینان بخش پیشرفت ہوئی ہے۔ کئی ڈی ایل آئیز میں بہتری نوٹ کی گئی ہے، جس کی تصدیق تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن رپورٹ اور بینک ٹیم نے کی ہے۔ ٹیکس اخراجات اور محصولات کی پیش گوئی سے متعلق رپورٹس مالی سال 2024 کیلئے شائع کی جا چکی ہیں، جبکہ مالی سال 2025 کی رپورٹس تیاری کے مراحل میں ہیں۔
سنگل ریٹرن پورٹل برائے جی ایس ٹی اور جی ایس ٹی آن سروسز چاروں صوبوں کی جی ایس ٹی ایس اتھارٹیز کے ساتھ نافذ کیا جا چکا ہے، جو کہ ٹیلی کام، مائیکروفنانس اور آئل اینڈ گیس سیکٹرز کو کور کرتا ہے۔ کلیدی کارکردگی کے اشاریوں پر مبنی ششماہی و سالانہ رپورٹس بھی مالی سال 2024 کیلئے شائع کی جا چکی ہیں۔
ایف بی آر نے کچھ ڈی ایل آئیز کے ہدف مکمل کر لیے ہیں، جن میں نئے ٹیکس دہندگان کی شناخت (ڈی ایل آئی 5)، رسک پر مبنی آڈٹ (ڈی ایل آئی 6)، بنیادی کاروباری عمل کی سادہ کاری اور خودکار نظام (ڈی ایل آئی 9)، اور ادارہ جاتی کارکردگی و شفافیت (ڈی ایل آئی 10) شامل ہیں۔
تاہم، ڈبلیو ایچ ٹی لائنوں میں کمی (ڈی ایل آئی 1)، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا مکمل نفاذ (ڈی ایل آئی 4)، اشیاء و خدمات کی تعریف میں ہم آہنگی (ڈی ایل آئی 3) اور سنگل پورٹل کا تمام شعبوں پر نفاذ (ڈی ایل آئی 7) ابھی بھی ہدف سے پیچھے ہیں۔ ایف بی آر ان پر عملدرآمد بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
منصوبے کے دوسرے حصے کے تحت ڈیٹا سینٹر کیلئے آلات کی خریداری جاری ہے، اور حکومت کی درخواست پر منصوبے میں تبدیلی اور اضافی مالی معاونت کی منظوری دی جا چکی ہے۔ یہ اضافی فنڈنگ ایف بی آر کے نئے ”ٹرانسفارمیشن پلان“ کو مالی سال 2027 تک سپورٹ کرے گی۔
دستاویز میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایف بی آر میں تاحال تکنیکی لائنیں قائم نہیں ہو سکیں، تاہم افسران کو تکنیکی، خریداری، آڈٹ اور ابلاغ جیسے مختلف شعبوں میں تعینات کیا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025