برطانیہ نے بدھ کو اس تنقید کو مسترد کردیا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبے کے ذریعے حماس کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔

غزہ کے لاغر اور کمزور بچوں کی تصاویر نے حالیہ دنوں میں دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جو شدید غذائی قلت اور انسانی بحران کی سنگین صورتِ حال کی عکاسی کرتی ہیں۔ منگل کو ایک ادارے نے خبردار کیا ہے کہ فلسطین میں قحط کی بدترین صورت حال جنم لے رہی ہے اور بڑے پیمانے پر اموات سے بچنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی جانب سے اسرائیل کو ستمبر تک کی ڈیڈ لائن دینے کے الٹی میٹم پر یروشلم میں ان کے ہم منصب نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت کا مؤقف حماس کیلئے ایک انعام کے مترادف ہے، برطانیہ کا اعلان غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ حماس کو فلسطینی ریاست کی آزادی کو تسلیم کر کے انعام دیا جانا چاہیے۔

اس تنقید کے بارے میں پوچھے جانے پر، برطانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ ہیڈی الیگزینڈر — جنہیں حکومت نے بدھ کو میڈیا کے مختلف انٹرویوز میں سوالات کے جواب دینے کے لیے مقرر کیا تھا — نے کہا کہ برطانیہ کے منصوبے کو اس طرح بیان کرنا درست نہیں ہے۔

انہوں نے ایل بی سی ریڈیو کو بتایا یہ حماس کو انعام نہیں ہے۔ حماس ایک گھناونی دہشت گرد تنظیم ہے جس نے ہولناک ظلم کیے ہیں۔ یہ فلسطینی عوام کے بارے میں ہے، ان بچوں کے بارے میں ہے جنہیں ہم غزہ میں دیکھتے ہیں جو بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اسرائیلی حکومت پر دباؤ بڑھانا ہوگا کہ وہ پابندیاں ختم کرے تاکہ امداد دوبارہ غزہ پہنچ سکے۔

واضح رہے کہ فرانس نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا۔

برطانیہ کی متواتر حکومتوں نے کہا ہے کہ وہ اس وقت فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گی جب یہ سب سے زیادہ مؤثر ہوگا۔

منگل کو ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں اسٹارمر نے کہا کہ اگر اسرائیل غزہ میں امداد کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات نہ کرتا، مغربی کنارے کی الحاق کا ارادہ ترک نہ کرتا، اور دو ریاستی حل کے لیے طویل المدتی امن عمل کا عزم ظاہر نہ کرتا، تو برطانیہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرے گا۔