وزیراعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے ایک جدید، مربوط اور عالمی معیار کے مطابق ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ اس مقصد کے لیے عالمی شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

یہ فیصلہ ہفتے کو اسلام آباد میں ایف بی آر اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران کیا گیا جس کی صدارت خود وزیراعظم نے کی۔

اجلاس میں جاری اصلاحاتی عمل، ایف بی آر کے ڈیٹا کو مرکزی نظام میں ضم کرنے اور پورے ویلیو چین کی بروقت اور مؤثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تیاری پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر میں جاری اصلاحات کی بدولت معیشت مثبت سمت میں بڑھ رہی ہے،تاہم محض ڈیجیٹائزیشن کافی نہیں، ایک مکمل ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی ضرورت ہے جو نئے نظام کو مؤثر انداز میں سہارا دے سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ خام مال کی پیداوار، درآمدات، صنعتی تیاری اور اختتامی صارف تک کی تمام معلومات کو ایک ہی مربوط نظام میں ضم کیا جائے تاکہ پورے ویلیو چین کی براہِ راست ڈیجیٹل نگرانی ممکن ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس مرکزی نظام سے حاصل شدہ ڈیٹا کو اسٹریٹجک معاشی فیصلوں کے لیے استعمال میں لایا جائے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ عام شہری پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کا ہدف صرف اس وقت حاصل ہو سکتا ہے جب ٹیکس نیٹ میں توسیع کی جائے اور غیر رسمی معیشت کو ختم کیا جائے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، احسن اقبال، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر، چیف کوآرڈینیٹر مشرف زیدی، اقتصادی ماہرین اور دیگر سینئر حکام شریک ہوئے۔