پیٹرولیم ڈویژن پاور پلانٹس میں آر ایل این جی کی کم کھپت سے پریشان
- کم آف ٹیک کے باعث سوئی نادرن گیس کمپنی لمیٹڈ کا سسٹم تیزی سے بھر رہا ہے، ذرائع
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پیٹرولیم ڈویژن اب بھی پاور پلانٹس کی جانب سے ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی کم آف ٹیک کے باعث مشکل صورتِ حال کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں سوئی نادرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کا سسٹم تیزی سے بھر رہا ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر (ٹیک گیس) صلاح الدین خان کے مطابق ایس این جی پی ایل مسلسل یہ رپورٹ کر رہی ہے کہ پاور سیکٹر کی آر ایل این جی کھپت جولائی 2025 کے لیے اس کی 600 ایم ایم سی ایف ڈی کی طلب کے مقابلے میں کم ہے۔
ایس این جی پی ایل نے 15 جولائی 2025 کو لکھے گئے خط میں اعادہ کیا کہ 16 جولائی 2025 کو کھپت 327 ایم ایم سی ایف ڈی رہی، جبکہ ماہانہ اوسط 501 ایم ایم سی ایف ڈی رہی، جس سے اضافی گیس جمع ہو رہی ہے اور سسٹم پیک کو خطرناک حد تک بڑھا رہی ہے۔
ایس این جی پی ایل نے مزید نشاندہی کی کہ 17 جولائی 2025 کو پاور کھپت 300 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈ کی گئی، جس سے نظام میں گیس کے مسلسل جمع ہونے کا سلسلہ جاری ہے جو ناقابلِ برداشت ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل (گیس) پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق اگر آر ایل این جی آف ٹیک کو فوری طور پر طلب کے مطابق بڑھایا اور برقرار نہ رکھا گیا تو زیادہ دباؤ ری گیسیفکیشن ٹرمینلز کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے کارگو ڈسچارج میں تاخیر اور ڈیمریج کے علاوہ ٹیک یا پے شق کے تحت مالی نقصان کا خطرہ پیدا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، ایس این جی پی ایل مقامی گیس فیلڈز سے سپلائی مزید کم کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن سے درخواست کی گئی ہے کہ متعلقہ اداروں کو جولائی 2025 کے لیے آر ایل این جی آف ٹیک طلب کے مطابق بڑھانے اور پہلے سے غیر استعمال شدہ مقدار کی تلافی کے لیے ہدایت دے، تاکہ ایس این جی پی ایل سسٹم کی ہموار کارکردگی یقینی بنائی جا سکے اور قومی مفاد میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
10 جولائی 2025 کو وزیرِ پیٹرولیم و قدرتی وسائل علی پرویز ملک کےانڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کی جانب سے آر ایل این جی کے کم استعمال پر تبصروں کے جواب میں، وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے اکنامک میرٹ آرڈر (ای ایم او) کا پُرزور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسے تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش گناہ کبیرہ ہوگی۔
انہوں نے پیٹرولیم ڈویژن پر زور دیا کہ اگر ضروری ہو تو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے معاہدوں کا جائزہ لے، بالکل اسی طرح جیسے پاور ڈویژن نے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کے معاہدوں کا ازسرِنو جائزہ لیا تھا۔
اویس لغاری نے کہا کہ علی پرویز ملک میرے قریبی دوست ہیں اور اگر معاہدے غلط ہیں تو ان کی تشویش بجا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی، بجلی گھر اکنامک میرٹ آرڈر کے تحت چلتے ہیں، جو بجلی پیداوار کو سب سے سستی ذرائع سے ترجیح دیتا ہے۔ اگر آر ایل این جی پلانٹس ای ایم او کے تحت اہل نہیں ہیں تو انہیں چلایا نہیں جا سکتا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) فیول چارج ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) عوامی سماعتوں کے دوران سسٹم آپریٹر کی ای ایم او خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتی رہی ہے، جس کی بنیاد پر نیشنل گرڈ کمپنی (سابقہ این ٹی ڈی سی) کے اربوں روپے روکے گئے۔ تاہم، یہ عمل اب بغیر کسی وجہ کے تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
نیپرا نے ہدایت دی ہے کہ سسٹم آپریٹر اور نیشنل گرڈ کمپنی کو ایک جامع اپ ڈیٹ پیش کرنی چاہیے جس میں اقتصادی بجلی گھروں کی بندش، اس کے مالی اثرات، اور آؤٹ آف میرٹ جنریشن پر انحصار شامل ہو۔ اس اپ ڈیٹ میں سسٹم کی رکاوٹوں کی نشاندہی، ہونے والی پیش رفت، ترمیم شدہ تکمیل کی ٹائم لائنز اور متعلقہ مالی اثرات بھی شامل ہونے چاہئیں۔
گیس کے مسائل پر ہونے والے حالیہ اجلاس میں، پاور ڈویژن کے نمائندے نے کہا کہ چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا اور رکاوٹوں کو حل کرنا ہوگا۔ چیئرمین نے جواب دیا کہ حکمتِ عملی کے مسائل بعد میں زیر بحث آئیں گے اور فی الحال توجہ گیس سیکٹر کی پائیداری اور ایل این جی کی زائد سپلائی/کم کھپت کے اثرات پر مرکوز ہونی چاہیے۔
سیکریٹری پیٹرولیم نے کمیٹی کے سامنے وہ کلیدی مسائل رکھے جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے، یعنی مقامی اور درآمدی گیس کے ٹیرف کی معقولیت، پاور سیکٹر کے ساتھ ایل این جی طلب کا ہم آہنگ ہونا اور گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا حل۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025