اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ غزہ میں شدت اختیار کر گیا جہاں فضائی اور زمینی حملوں میں مزید 15 فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی فوج نے اپنے زمینی آپریشنز کو وسطی شہر دیر البلح تک وسعت دے دی ہے۔
ترجمان سول ڈیفنس ایجنسی محمود بصل نے اے ایف پی کو بتایا کہ غزہ شہر کے مغرب میں واقع الشاطی کیمپ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 13 افراد شہید اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔
گزشتہ 21 ماہ کے تنازع کے دوران غزہ کی اکثریتی آبادی کم از کم ایک بار بے گھر ہوچکی ہے اور بحیرہ روم کے ساحل پر واقع الشاطی کیمپ شمالی علاقوں سے بے دخل ہونے والے ہزاروں افراد کو خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں پناہ دیے ہوئے ہے۔
30 سالہ رائد بکر جو اپنے تین بچوں کے ساتھ رہتے ہیں نے بتایا کہ منگل کو رات 1:40 بجے کے قریب انہوں نے ایک زوردار دھماکہ سنا، جس سے ان کا خیمہ اڑ گیا۔
رائد بکر جن کی اہلیہ گزشتہ سال شہید ہو گئی تھیں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایسا لگا جیسے میں کسی ڈراؤنے خواب میں ہوں۔ آگ، گرد، دھواں اور فضاء میں اڑتے انسانی اعضا، ہر طرف مٹی ہی مٹی تھی۔ بچے چیخ رہے تھے۔
ایندھن کی قلت کے باعث نجی گاڑیاں سڑکوں سے غائب تھیں، اس لیے پڑوسیوں نے بعض زخمیوں کو پیدل اٹھا کر لے جانا شروع کیا۔
33 سالہ مہند ثابت جو الشاطی کیمپ میں ہی مقیم ہیں، نے اسے دہشت کی رات قرار دیا، جو کہ مسلسل فضائی حملوں اور دھماکوں کی وجہ سے خوفناک تھی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ایک چھ سالہ زخمی بچے کو قریبی الشفا اسپتال علاج کے لیے اٹھا کر لے گئے — جو کبھی غزہ کے بڑے اور اہم ترین اسپتالوں میں شمار ہوتا تھا — زخمیوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا اور مزید مریضوں کو سنبھالنے کی گنجائش نہیں تھی۔
سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان بصل نے بتایا کہ دیرالبلح میں مزید دو افراد جاں بحق ہوئے جہاں اسرائیلی فوج نے اپنے زمینی آپریشنز کو وسعت دینے کا اعلان کیا ہے اور اس علاقے کے بیشتر حصوں سے انخلا کا حکم دیا جاچکا ہے۔