پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) نے بڑے پیمانے کی صنعتوں (ایل ایس ایم) کے لئے کوانٹم انڈیکس کو اپڈیٹ کیا ہے جس سے ملک کی صنعتی کارکردگی کی ایک انتہائی تشویشناک تصویر سامنے آتی ہے۔ مالی سال 2024-25 کے جولائی تا مئی کے عرصے میں ایل ایس ایم آئی منفی 1.21 فیصد رہی۔
اس ڈیٹا کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ منفی رجحان میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ہے — جولائی تا اپریل 2025 میں ایل ایس ایم آئی کی شرح منفی 1.52 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ صرف منفی 0.26 فیصد تھی، جیسا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ جون کی اقتصادی جائزہ رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ صورتِ حال دو اہم نکات کو جنم دیتی ہے۔
مئی 2025 کے اعدادوشمار جو کہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 2.29 فیصد اور اپریل 2025 کے مقابلے میں 7.39 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں، بظاہر حوصلہ افزا معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن ناقدین اس ڈیٹا کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہیں۔ آزاد ماہرین معیشت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پہلے ہی اس بات پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں کہ پاکستان میں جی ڈی پی کا تقریباً ایک تہائی حصہ ایسے شعبوں پر مشتمل ہے جن کے بنیادی اعداد و شمار ناقص یا ناکافی ہیں۔ ستمبر 2024 کی آئی ایم ایف رپورٹ میں واضح طور پر حکومتی مالیاتی شماریات (جی ایف ایس) میں تفصیلات اور درستگی کے مسائل کی نشاندہی کی گئی۔
حکام ان خامیوں کو دور کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں جی ایف ایس اور پی پی آئی پر آئی ایم ایف کے تکنیکی تعاون (ٹی اے) کی مدد حاصل کی جارہی ہے۔ اس تکنیکی معاونت پر کام کا آغاز اسی ماہ متوقع ہے،مگر جب تک یہ اصلاحات مکمل نہیں ہوتیں، ڈیٹا کی شفافیت اور اعتبار پر سوالات برقرار رہیں گے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مئی 2025 کے دوران بڑے پیمانے کی صنعتوں کا انڈیکس (ایل ایس ایم آئی) منفی سے مثبت زون میں منتقل ہونے میں تقریباً تنِ تنہا دو مصنوعات نے کلیدی کردار ادا کیا۔
چینی جس کا ایل ایس ایم آئی میں ویٹ ایج 3.43 فیصد ہے اور جس میں مئی 2025 کے دوران 44.08 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا؛ جو اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اتنی بلند پیداواری شرح کے باوجود ملک میں چینی کی قیمتیں اتنی زیادہ کیوں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق چینی کی برآمد کی اجازت سے متعلق فیصلے—جنہوں نے ملک میں مصنوعی قلت پیدا کی—یا تو ناقص معلومات پر مبنی تھے یا بدترین صورت میں دانستہ طور پر کیے گئے، تاکہ اس شعبے پر غالب اثر و رسوخ رکھنے والے بااثر سیاسی شوگر مل مالکان کو فائدہ پہنچایا جا سکے، جو اس اہم اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر اب بھی زبردست کنٹرول رکھتے ہیں۔
اور دوسرا شعبہ آٹو موبائل ہے جس کا بڑے پیمانے کی صنعتوں کے انڈیکس (ایل ایس ایم آئی) میں وزن 3.10 فیصد ہے اور جس نے صرف ایک ماہ میں 43.94 فیصد کی غیرمعمولی نمو ظاہر کی۔
ایک گاڑی تیار کرنے میں درکار وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف ایک ماہ میں ہونے والا یہ غیرمعمولی اضافہ پیداوار میں اضافے کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ فروخت میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے جو پہلے سے موجود اسٹاک کے ذریعے ممکن ہوا۔ اس کی تصدیق بزنس ریکارڈر کی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے کی گئی ایک اسٹڈی سے بھی ہوتی ہے جس کے مطابق یہ نمو دراصل لیزنگ میں زبردست اضافے کا نتیجہ ہے۔ دوسری جانب ٹیکسٹائل شعبہ جو ایل ایس ایم آئی میں 18.16 فیصد وزن رکھتا ہے اس میں کپڑے کی پیداوار میں 0.43 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی (جون 2024 میں 21 فیصد سے کم ہو کر جون 2025 میں 11 فیصد تک آنے) کے باوجود بڑے پیمانے کی صنعتوں (ایل ایس ایم ) کا منفی رجحان برقرار ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ شرح سود اب بھی ہمارے علاقائی حریف ممالک کی اوسط کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ مزید یہ کہ نجی شعبے کو دیا گیا قرضہ جولائی سے 14 جون 2024 تک 323.5 ارب روپے سے بڑھ کر 2024-25 کی اسی مدت میں 676.6 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے؛ تاہم اس اضافے کا اظہار پیداواری سرگرمیوں میں نہیں بلکہ سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی صورت میں ہو رہا ہے — ایک الزام جو آزاد معیشت دانوں نے لگایا ہے اور جس کی حکومت کی جانب سے کوئی تردید نہیں کی گئی۔
صنعتی شعبے نے صنعتی پیداوار میں کمی کی مزید وجوہات کے طور پر بجلی اور گیس کے نرخوں میں کراس سبسڈی اور حکومت کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے اُن پر عائد کیے گئے زیادہ اور غیر منصفانہ ٹیکسز کی نشاندہی بھی کی ہے۔
اگرچہ آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے باعث حکومت کی بجٹ میں کیے گئے بیشتر پالیسی فیصلوں میں تبدیلی کی گنجائش خاصی محدود ہے، تاہم یہ امید کی جا سکتی ہے کہ حکومت مناسب ایڈجسٹمنٹس ایسے انداز میں کرے گی کہ اس کا بوجھ غریب طبقے پر بالواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں نہ ڈالا جائے—کیونکہ عالمی بینک کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 44.2 فیصد ہے، اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025