پاکستان کے مالی سال 25-2024 کے لیے ادائیگیوں کے توازن (بلینس آف پیمنٹ) کے اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چند روز قبل جاری کیے۔ مجموعی ادائیگیوں کے توازن میں 3.7 بلین امریکی ڈالر کا سرپلس رہا، جو مالی سال 24-2023 کے 2.9 بلین ڈالر کے سرپلس کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ تاہم 25-2024 میں ادائیگیوں کے توازن کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جو 24-2023 کے اعداد و شمار سے مختلف ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس مالی سال 24-2023 کے 2.1 بلین ڈالر کے خسارے سے تبدیل ہو کر مالی سال 25-2024 میں 2.1 بلین ڈالر کے سرپلس میں آ گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہوم ریمیٹنسز میں 8 بلین ڈالر سے زائد کا اضافہ ہے، جو 38.3 فیصد کی غیر معمولی شرح نمو کو ظاہر کرتا ہے۔

ظاہر ہے کہ ریمیٹنسز کی مجموعی سطح میں حقیقی طور پر اتنا بڑا اضافہ نہیں ہوا، بلکہ یہ اسٹیٹ بینک کی پہلی بار فاریکس مارکیٹ میں مداخلت اور ہنڈی/حوالہ ٹرانزیکشنز کے متبادل انتظام کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اس بڑے اقدام کے بغیر امکان یہی تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 6 بلین ڈالر تک ہوتا، جب تک کہ درآمدات پر سخت پابندیاں نہ لگائی جاتیں۔

ذخائر میں بہتری کے بعد اسٹیٹ بینک نے درآمدات پر پابندیاں نمایاں طور پر نرم کر دی ہیں۔ درآمدات کی مالیت میں 11 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جو غیر معمولی ہے۔

اصل تشویش کی بات برآمدات کی مایوس کن کارکردگی ہے، جن میں صرف 4 فیصد کی معمولی شرح نمو رہی۔ پاکستان اگر ادائیگیوں کے توازن کو پائیدار بنیادوں پر لانا چاہتا ہے تو آنے والے سالوں میں برآمدات کو دو عددی شرح نمو (ڈبل ڈیجیٹ گروتھ) تک پہنچانا ہوگا، ورنہ آئی ایم ایف کی معاونت سے نکلنا مشکل ہوگا۔

ایک اور حیران کن بات یہ ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ میں پرائمری آمدنی تقریباً بغیر تبدیلی کے رہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی منافع کی ترسیلات میں اضافہ نہیں ہوا کیونکہ مقامی مارکیٹ میں ان کی منافع بخشی جمود کا شکار رہی۔ بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کے باوجود سود کی ادائیگیاں زیادہ نہیں ہوئیں۔

اچھی خبر یہ ہے کہ سروسز کی برآمدات میں 9 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جو ممکنہ طور پر آئی ٹی برآمدات میں تیزی کا نتیجہ ہے۔ امید ہے کہ یہ شرح نمو آئندہ برسوں میں برقرار رہے گی بلکہ مزید بہتر ہوگی۔

مجموعی طور پر، سیکنڈری آمدنی میں 25 فیصد سے زائد اضافہ اور ورکرز ریمیٹنسز میں 38 بلین ڈالر سے زائد وصولیوں نے کرنٹ اکاؤنٹ میں 2 بلین ڈالر کا سرپلس پیدا کیا۔

فنانشل اکاؤنٹ میں سرپلس میں بڑی کمی ہوئی ہے۔ یہ مالی سال 24-2023 میں 5.4 بلین ڈالر تھا جو 3.9 بلین ڈالر کم ہو کر مالی سال 25-2024 میں صرف 1.5 بلین ڈالر رہ گیا۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کی سطح 1.8 بلین ڈالر پر تقریباً بغیر تبدیلی کے رہی۔ پورٹ فولیو فنڈز میں خالص انخلا ہوا، حالانکہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی تھی۔ یہ بین الاقوامی نجی شعبے کے پاکستان کی معیشت پر اعتماد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

حکومتی اکاؤنٹ میں خالص آمد معمولی طور پر بڑھی، جو مالی سال 24-2023 میں 1.6 بلین ڈالر تھی اور 25-2024 میں 2.3 بلین ڈالر ہو گئی۔ ڈسبرسمنٹ اور قرضوں کی واپسی دونوں میں اضافہ ہوا۔

فنانشل اکاؤنٹ کی دیگر آمدنیاں، خاص طور پر نجی شعبے میں، منفی ہو گئیں۔ 24-2023 میں یہ 2 بلین ڈالر تھیں جو 25-2024 میں 2.6 بلین ڈالر منفی ہو گئیں۔ یہ ایک اور تشویشناک پیشرفت ہے۔

زرِمبادلہ کے ذخائر میں 5.1 بلین ڈالر کا نمایاں اضافہ ہوا، جس میں سے 3.7 بلین ڈالر ادائیگیوں کے توازن کے سرپلس سے اور 1.4 بلین ڈالر آئی ایم ایف سے نیٹ انفلو کی وجہ سے ہیں۔ مالی سال 25-2024 کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ کے ذخائر 14.1 بلین ڈالر ہیں، جو تقریباً 2.5 ماہ کی درآمدات کا احاطہ کرتے ہیں۔

تاہم، ذخائر میں غیر معمولی قلیل مدتی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جو 20 جون 2025 کو عارضی طور پر صرف 9.1 بلین ڈالر تک گر گئے۔ ذخائر میں اس قسم کی تبدیلی روپے کی قدر کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

مالی سال 26-2025 کے لیے ادائیگیوں کے توازن کی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ سب سے پہلے وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ میں بیرونی وسائل کے نیٹ انفلو کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی بجٹ اِن بریف رپورٹ کے مطابق یہ 2,583 ارب روپے سے کم ہو کر 105 ارب روپے رہ جائے گا، جو بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں 70 فیصد اضافے کا نتیجہ ہے۔

آئی ایم ایف نے بھی اپنی اسٹاف رپورٹ میں مالی سال 26-2025 کے لیے ادائیگیوں کے توازن کا تخمینہ لگایا ہے، جس میں 1.5 بلین ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور فنانشل اکاؤنٹ میں ایک بلین ڈالر کمی کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ برقرار رکھنے کی شرط یہ ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کی ایکسٹرنل فنڈ فیسلٹی کے اندر کام کرتا رہے۔ اس صورت میں مالی سال 26-2025 میں 1.9 بلین ڈالر کا نیٹ انفلو ہوگا، جو مالی سال25-2024 کے 0.5 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔

مجموعی طور پر، مالی سال 26-2025 میں ادائیگیوں کا توازن زیادہ نازک ہو سکتا ہے، جب تک کہ 25-2024 جیسی ہوم ریمیٹنسز میں بڑی بڑھوتری نہ ہو۔ ایک سال تک روپے کی قدر میں استحکام کے بعد اب تیزی سے کمی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک اور وزارتِ خزانہ کو مسلسل نگرانی اور بروقت اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔

کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025