وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق ہفتہ وار جائزہ اجلاس میں ہدایت کی ہے کہ ٹیکس گوشوارے سادہ بنائے جائیں اور شہریوں کی سہولت کے لیے اردو زبان میں ڈیجیٹل انوائسنگ کا اجرا کیا جائے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر جاری اصلاحات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ٹیکس اسیسمنٹ سسٹم کے نفاذ کو بھی اہم سنگِ میل قرار دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات کا مرکز عام شہری کی سہولت ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایف بی آر کی ہر اصلاح میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے نظام کو بھی متعارف کرانے کی ہدایت دی۔
شہباز شریف نے کہا کہ نئے سادہ ڈیجیٹل ٹیکس ریٹرنز سے خاص طور پر تنخواہ دار طبقہ مستفید ہوگا، اور اس سلسلے میں عوامی آگاہی مہم کا آغاز ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام کے تحت ٹیکس فائل کریں۔
انہوں نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، اقتصادی ٹیم اور ایف بی آر چیئرمین راشد لنگڑیال کو اصلاحاتی اقدامات کو آگے بڑھانے پر سراہا، جن کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور کم آمدنی والے طبقے پر بوجھ کم کرنا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکس اسیسمنٹ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے جو کہ ایک ”اہم پیش رفت“ ہے۔ انہوں نے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے لیے سہولتیں فراہم کرنے اور انہیں ڈیجیٹل انوائسنگ نظام میں شامل کرنے پر زور دیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ، ای-بلٹی، سادہ ٹیکس ریٹرنز، اے آئی پر مبنی اسیسمنٹ سسٹم اور سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے قیام پر پیش رفت جاری ہے۔ بتایا گیا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول یونٹ کے لیے بولی کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ ستمبر تک اس کی مکمل فعالیت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ مرکزی سطح پر ڈیٹا تک رسائی اور فیصلہ سازی ممکن ہو سکے۔
اے آئی سسٹم کے تحت تاجر شپ کے پہنچنے سے پہلے ایڈوانس گڈز ڈکلیئریشن (اے جی ڈی) جمع کرا سکیں گے، جس سے محصولات اور ٹیکس پر استثنا ملے گا۔ اس نظام کے تحت اے جی ڈی کی تعمیل کی شرح موجودہ 3 فیصد سے بڑھ کر 95 فیصد سے تجاوز کر جائے گی، جس سے بندرگاہوں سے فیکٹریوں تک براہِ راست کنٹینر منتقلی ممکن ہو گی۔
ڈیجیٹل انوائسنگ نظام کے تحت تمام کاروباروں کو پوائنٹ آف سیل پر آن لائن انوائس جاری کرنا ہوگی۔ آئندہ چند ماہ میں 20,000 کاروبار اس نظام کا حصہ بنیں گے۔ پہلے ہی مہینے میں 8,000 انوائسز جن کی مالیت 11.6 ارب روپے ہے، سسٹم میں پروسیس کی جا چکی ہیں۔ یہ نظام ٹیکس دہندگان کے لیے پورٹل اور مانیٹرنگ ڈیش بورڈ پر مشتمل ہے اور اسے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرل) کے ذریعے بلا معاوضہ مربوط کیا گیا ہے۔
نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد تاجروں کو علیحدہ سیلز ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ تمام لین دین خودکار طور پر ریکارڈ ہو جائے گا۔ مزید اقدامات میں بین الاقوامی معیار کے مطابق آٹھ ہندسوں پر مشتمل ہرمونائزڈ سسٹم (ایچ ایس) کوڈ متعارف کروایا جا رہا ہے تاکہ جعلی انوائسز کا خاتمہ ہو اور سیلز ٹیکس نظام کی مانیٹرنگ بہتر ہو سکے۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے سادہ ڈیجیٹل ٹیکس ریٹرنز 15 جولائی سے دستیاب ہوں گے، جبکہ دیگر ٹیکس دہندگان کے لیے 30 جولائی سے سہولت مہیا کی جائے گی۔ اردو زبان میں ٹیکس ریٹرنز کا اجرا بھی 30 جولائی تک کر دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایک خصوصی ہیلپ لائن قائم کی جائے اور نئے نظام کے تحت ٹیکس فائلنگ کی آسانی کا جائزہ لینے کے لیے عوامی سروے کیے جائیں۔
کارگو ٹریکنگ اور ای-بلٹی سسٹم پر بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ مال برداری کی نقل و حرکت اور ٹیکس ادائیگی کی حقیقی وقت میں نگرانی ممکن ہو گی، جسے اے آئی سے تقویت دی جائے گی۔ حکومت اس نظام کے بین الاقوامی معیار کے مطابق نفاذ کے لیے ترکی کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ ترکی کے صدر سے حالیہ آذربائیجان دورے میں ہونے والی ملاقات کے بعد ترک وفد اس وقت پاکستان میں نظام کے نفاذ میں معاونت کے لیے موجود ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی، چیئرمین ایف بی آر رشید لانگریال اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
این این آئی کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ سادہ ڈیجیٹل ٹیکس ریٹرنز 15 جولائی سے تنخواہ دار افراد کے لیے اور 30 جولائی سے دیگر ٹیکس دہندگان کے لیے شروع کیے جائیں گے۔ اردو زبان میں ریٹرنز بھی 30 جولائی تک دستیاب ہوں گے، اور نئے نظام کے تحت فارم بھرنے کے عمل کی تفصیل بھی اجلاس میں بیان کی گئی ہے۔