وزیرِاعظم شہباز شریف نے پیر کے روز معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں فوری اور جامع اصلاحات پر زور دیتے ہوئے سرکاری ادائیگیوں کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے لیے آسان عمل، اور سرکاری اداروں (ایس او ایز) کو ایک متحد ڈیجیٹل فریم ورک میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔
ہفتہ وار جائزہ اجلاس کے دوران اعلیٰ حکام نے وزیرِاعظم کو آگاہ کیا کہ ٹیکس اور نان ٹیکس ادائیگیوں کو حکومت اور عوام کے درمیان مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے لیے وفاقی وزارتوں، ریگولیٹری اداروں، صوبائی محکموں اور ضلعی انتظامیہ سے مشاورت جاری ہے۔
حکام نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں وفاقی حکومت کے مالیاتی لین دین اور صوبائی حکومتوں کو رقوم کی منتقلی کا ڈیٹا میپنگ مکمل کر لیا گیا ہے، اور ان ادائیگیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جائے گا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام شفافیت اور عوام کے لیے سہولت لائے گا۔ اُن کا کہنا تھا، “کیش لیس معیشت کی طرف منتقلی شفافیت اور آسانی فراہم کرے گی، جو ملک کے مالیاتی نظام کو جدید بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیرِاعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ ابتدائی اقدامات کے تحت سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، پنشن اور خریداریوں کی ادائیگیوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل کیا جائے گا، جب کہ ٹھیکیداروں کو ادائیگیوں کے عمل کو بھی الیکٹرانک ذرائع سے سادہ اور شفاف بنایا جائے گا۔
وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ ایس ایم ایز کو اس نظام میں شمولیت کے لیے آسان راستہ فراہم کیا جائے کیونکہ یہ معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے تمام سرکاری اداروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے دائرہ کار میں شامل کرنے کا بھی حکم دیا۔
راست سسٹم کی مؤثر نگرانی کے لیے وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ ستمبر تک اس کا چیئرمین اور بورڈ آف گورنرز تعینات کیا جائے، جس میں اقتصادی اور کاروباری ماہرین کو بھی شامل کیا جائے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ راست کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی اسامی کے لیے اشتہار جاری کیا جا چکا ہے، جب کہ ڈیجیٹل بینکنگ صارفین کی تعداد 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھا کر 12 کروڑ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حجم 7.5 ارب روپے سے بڑھ کر 15 ارب روپے ہو جائے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اگلے ماہ راست اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لیے قومی سطح پر آگاہی مہم شروع کی جائے گی۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لیے آلات پر عائد درآمدی ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے، جب کہ پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں پیش رفت کو جانچنے کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹس انڈیکس آئندہ ماہ متعارف کروایا جائے گا۔
اسلام آباد میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے لیے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے رائٹ آف وے کی منظوری دے دی ہے، اور اسلام آباد سٹی موبائل ایپ کو راست کے نظام سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق تمام غیرملکی ترسیلات زر کو بینکاری نظام میں لایا جا رہا ہے، اور اس نیٹ ورک کو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تک وسعت دینے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
اسلام آباد کے مخصوص علاقوں میں عوامی وائی فائی سروسز اور ای-لائبریریاں دسمبر 2025 تک فعال ہو جائیں گی۔ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی تھرڈ پارٹی ویری فکیشن بھی وزیرِاعظم کی ہدایت پر جاری ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وفاقی اور صوبائی حکام کو کیو آر کوڈ کو بنیادی ادائیگی طریقہ بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے تحت کیو آر کوڈ اور دیگر ڈیجیٹل طریقوں کے ذریعے ادائیگی کرنے والے تجارتی مقامات کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ تک کی جائے گی۔
اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شیزا فاطمہ، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، مشیرِ وزیرِاعظم ڈاکٹر توقیر شاہ، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال کیانی سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025