امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکہ اگلے ماہ سے یورپی یونین اور میکسیکو سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 30 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔ ٹرمپ نے یہ اعلان اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ”ٹروتھ سوشل“ پر پوسٹ کئے گئے الگ الگ خطوط میں کیا، جن میں میکسیکو پر امریکہ میں منشیات کی اسمگلنگ اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی خسارے کا حوالہ دیا گیا۔

نئے ٹیرف یکم اگست 2025 سے نافذ ہوں گے۔ میکسیکو پر عائد کردہ نیا ٹیرف اس سے پہلے لگائے گئے 25 فیصد ٹیرف سے بھی زیادہ ہے۔ تاہم، امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے مابین تجارتی معاہدہ (یو ایس ایم سی اے) کے تحت آنے والی مصنوعات کو اس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا، ”میکسیکو نے سرحد کی سیکیورٹی کے معاملے پر کچھ مدد ضرور کی ہے، مگر یہ ناکافی ہے، اس لیے ہم یکم اگست سے میکسیکن مصنوعات پر 30 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔“

کینیڈا کو بھی اسی طرح کا ایک خط موصول ہوا ہے جس میں 35 فیصد ٹیرف کا عندیہ دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق کینیڈا کے لیے بھی یو ایس ایم سی اے استثنیٰ برقرار رہے گا۔

دوسری جانب، یورپی یونین پر عائد ہونے والا ٹیرف بھی اس سے پہلے اپریل میں لگائے گئے 20 فیصد ٹیرف سے زیادہ ہے۔ مذاکرات جاری ہیں، تاہم یورپی یونین پر پہلے سے موجود 10 فیصد ٹیرف میں اضافے کی نئی تاریخ یکم اگست مقرر کی گئی ہے۔

ٹرمپ اب تک 20 سے زائد ممالک کو ٹیرف میں اضافے سے متعلق خطوط ارسال کر چکے ہیں۔ برسلز نے جمعہ کو کہا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ اضافی ٹیرف سے بچا جا سکے۔

یاد رہے کہ یورپی یونین نے رواں سال کے اوائل میں امریکہ کی جانب سے اسٹیل اور ایلومینیم پر اضافی ٹیرف کے جواب میں 21 ارب یورو مالیت کی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات کی تیاری کر رکھی ہے، جنہیں 14 جولائی تک معطل رکھا گیا ہے۔ اگر ضروری ہوا تو یہ معطلی فوراً ختم کی جا سکتی ہے۔