بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، جو ایک روز قبل دو ہفتوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھیں۔ سرمایہ کاروں کی توجہ امریکہ کی نئی ٹیرف پالیسیوں اور ان کے ممکنہ اثرات پر مرکوز ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 15 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 0601 جی ایم ٹی پر فی بیرل 70 ڈالر ہو گئی۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آءی) کروڈ 16 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے ساتھ فی بیرل 68.17 ڈالر پر آ گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کے نفاذ کی تاریخ میں توسیع نے جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی یونین جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں کو کچھ امید دلائی ہے کہ تجارتی محصولات میں نرمی کے لیے مذاکرات کا امکان موجود ہے۔ تاہم جنوبی افریقہ جیسے چھوٹے برآمد کنندگان اور بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے صورتحال اب بھی غیر واضح ہے۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کی ڈیڈ لائن کو یکم اگست تک مؤخر کر دیا ہے، اور واضح کیا ہے کہ اس بار “کسی قسم کی مزید توسیع نہیں دی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے درآمدی تانبے پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے اور سیمی کنڈکٹرز و دواسازی پر طویل عرصے سے زیر غور محصولات جلد لاگو کرنے کا اعلان بھی کیا، جس سے عالمی مارکیٹس میں مزید اضطراب پیدا ہوا۔

اگرچہ ٹیرف کے باعث تیل کی طلب میں کمی کا خدشہ ہے، تاہم امریکہ میں یومِ آزادی کی تعطیلات کے دوران ریکارڈ سفری رجحانات نے طلب میں اضافے کی امید پیدا کی ہے۔ ٹریول گروپ اے اے اے کے مطابق، اس سال 4 جولائی کی تعطیلات کے موقع پر تقریباً 72.2 ملین امریکی 80 کلومیٹر سے زائد سفر کریں گے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔

دوسری جانب، امریکی توانائی معلوماتی ادارے (ای آئی اے) نے منگل کے روز اپنی ماہانہ رپورٹ میں کہا کہ 2025 میں امریکہ کی تیل پیداوار گزشتہ اندازوں سے کم رہے گی، کیونکہ قیمتوں میں کمی کے سبب پیداوار کی سرگرمیوں میں سست روی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں پیداوار 13.37 ملین بیرل یومیہ متوقع ہے، جو پچھلے مہینے کے 13.42 ملین بیرل کے تخمینے سے کم ہے۔

اُدھر اوپیک پلس نے ستمبر کے لیے تیل کی پیداوار میں مزید اضافہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ گروپ نے پہلے ہی اگست کے لیے 548,000 بیرل یومیہ اضافے کی منظوری دے دی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب تک عملی اضافہ اعلانات سے کم رہا ہے، اور زیادہ تر اضافی فراہمی سعودی عرب کی طرف سے کی گئی ہے۔

ادھر، یمن کے ساحل کے قریب ایک یونانی آپریٹڈ بحری جہاز پر ڈرون اور سپیڈ بوٹ حملے میں چار سیفیر ہلاک ہو گئے، جو کئی مہینوں کے سکون کے بعد ایک ہی دن میں پیش آنے والا دوسرا واقعہ ہے۔ اس طرح کے جیو پولیٹیکل خدشات نے قیمتوں کو گرنے سے روکنے میں کردار ادا کیا ہے۔