چین نے یورپی یونین کی جانب سے چینی کمپنیوں پر بڑے طبی آلات کی خریداری پر پابندی کے جواب میں یورپی کمپنیوں پر بھی اسی نوعیت کی پابندی عائد کر دی ہے، جو دونوں معیشتوں کے درمیان تجارتی کشیدگی کا تازہ باب ہے۔

چین کی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یورپی یونین کی کمپنیاں، سوائے ان کے جن کا یورپی سرمایہ چین میں قائم ہے، 45 ملین یوان (6.3 ملین ڈالر) سے زائد کے آرڈرز میں شامل نہیں ہو سکیں گی۔

چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے گزشتہ ہفتے یورپی یونین کے مرکزی دفتر کے علاوہ فرانس اور جرمنی کا دورہ کیا تاکہ 27 رکن ممالک پر مشتمل بلاک کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے جا سکیں۔

تاہم اقتصادی روابط میں گہری کشیدگیاں باقی ہیں، جن میں چین اور یورپی یونین کے درمیان 357.1 ارب ڈالر کے وسیع تجارتی خسارے کا مسئلہ بھی شامل ہے۔

چین کی پابندی، جو اتوار سے نافذ العمل ہو گئی ہے، میں کئی اقسام کی مصنوعات ، جن میں مصنوعی اعضا اور ان کے پرزے، طبی مشینری اور سرجیکل آلات شامل ہیں۔

بیجنگ کی وزارتِ خزانہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یورپی یونین کی مصنوعات کی تعداد ایسے بولیوں میں 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتی جو غیر یورپی کمپنیوں کی جانب سے دی جائیں۔

یورپی یونین نے جب چینی کمپنیوں کو 5 لاکھ یورو (5.8 ملین ڈالر) سے زیادہ کی سرکاری طبی آلات کی خریداری سے روک دیا، تو بیجنگ کی طرف سے سخت ردعمل اور دہرے معیار کے الزامات سامنے آئے۔ یہ پابندی چین کی اپنی مارکیٹ تک رسائی کو محدود کرنے کے جواب میں تھی۔

یورپی کمیشن نے اس پابندی کو ”چین کی طویل المدتی پالیسی کے جواب میں جو یورپی ساختہ طبی آلات کو چینی سرکاری معاہدوں سے خارج کرتی ہے“ قرار دیا۔

برسلز کے مطابق چین میں سرکاری طبی آلات کے تقریباً 90 فیصد معاہدے یورپی کمپنیوں کے خلاف امتیازی اور خارج کرنے والی پالیسیوں کے تحت آتے ہیں۔

چین کی وزارتِ تجارت نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ چین نے بارہا دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے ان تنازعات کو مشاورت، مکالمہ اور دوطرفہ انتظامات کے ذریعے حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ تین برسوں میں برسلز اور بیجنگ نے کئی اقتصادی شعبوں میں تنازعات کا سامنا کیا ہے، جن میں الیکٹرک کاریں، ریلوے صنعت، سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز شامل ہیں۔