کاروبار اور معیشت

جون میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 3 سے 4 فیصد رہنے کا امکان

  • مئی کے دوران مجموعی مہنگائی بڑھنے کی شرح 3.5 فیصد ریکارڈ کی گئی
شائع June 30, 2025 اپ ڈیٹ June 30, 2025 12:31pm

وزارتِ خزانہ نے پیر کو پیش گوئی کی ہے کہ جون میں پاکستان کی مجموعی مہنگائی (ہیڈلائن انفلیشن) بڑھنے کی شرح 3 سے 4 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

وزارتِ خزانہ نے اپنی ماہانہ معاشی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جون 2025 کیلئے مہنگائی بڑھنے کی شرح 3 سے 4 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق مئی 2025 کے دوران سالانہ بنیاد پر مجموعی مہنگائی (ہیڈلائن انفلیشن) بڑھنے کی شرح 3.5 فیصد رہی جو اپریل 2025 کے مقابلے میں زیادہ ہے جب یہ صرف 0.3 فیصد تھی۔

قبل ازیں بروکریج ہاؤس جے ایس گلوبل نے پیش گوئی کی تھی کہ جون میں پاکستان کی مجموعی مہنگائی (ہیڈلائن انفلیشن) بڑھنے کی شرح قدرے کمی کے ساتھ 3.1 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

ادھر وزارتِ خزانہ نے اپنی رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ آنے والے مہینوں میں بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم) کی کارکردگی کا رجحان مثبت نظر آتا ہے جسے سیمنٹ کی ترسیل اور آٹوموبائل کی فروخت جیسے اعلیٰ فریکوئنسی اشاریوں کے حوصلہ افزا رجحانات سہارا دے رہے ہیں۔

مزید برآں نجی شعبے کے کاروباری اداروں کو دیے جانے والے قرضوں میں اضافہ پیداواری سرگرمیوں میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

ماہانہ جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ بیرونی محاذ پر ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ مالی سال 2025 کے دوران جاری کھاتے کو فاضل (سرپلس) میں رکھنے میں معاون رہے گا۔

مالی سال 2025

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں پاکستان کی معیشت نے اپنی ترقی کی رفتار برقرار رکھی جسے مستحکم میکرو اکنامک بنیادوں، محتاط مالی نظم و نسق، اور بیرونی شعبے کی بہتر کارکردگی کا سہارا حاصل رہا۔

رواں مالی سال جولائی تا اپریل حقیقی جی ڈی پی میں 2.68 فیصد اضافہ ہوا جب کہ مہنگائی بتدریج کم ہوئی۔ جاری کھاتے میں 1.81 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ مالیاتی خسارے میں کمی آئی اور پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 3.2 فیصد تک پہنچ گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جاری آئی ایم ایف پروگرامز (ای ایف ایف اور آر ایس ایف) اور کریڈٹ ریٹنگز میں بہتری نے پالیسی پر اعتماد اور سرمایہ کاروں کے جذبات کو مضبوط کیا ہے۔

ایگری سیکٹر

ماہانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق خریف سیزن 2025-26 کے لیے وفاقی حکومت نے کپاس کی کاشت کا ہدف 22 لاکھ ہیکٹر رقبہ اور پیداوار کا ہدف 1 کروڑ 18 لاکھ گانٹھیں مقرر کی ہے۔

ادھر زرعی شعبے میں استعمال ہونے والی انپٹس کا استعمال مسلسل بہتر ہو رہا ہے جسے معیاری بیج، مناسب زرعی قرضوں، مشینری اور کھاد کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے حکومتی اقدامات کا بھرپور سہارا حاصل ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ خریف سیزن 2025 کے لیے یوریا اور ڈی اے پی کی دستیابی کا تخمینہ بالترتیب 40 لاکھ 12 ہزار اور 8 لاکھ 40 ہزار ٹن لگایا گیا ہے۔ اپریل 2025 میں یوریا اور ڈی اے پی کی کھپت بالترتیب 4 لاکھ 18 ہزار اور 95 ہزار ٹن رہی جو سالانہ بنیاد پر 4.6 فیصد اور 135.2 فیصد کے نمایاں اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔