صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا سینئر ترین جج قرار دے دیا ہے، یہ فیصلہ عدالتی سینیارٹی کے تعین کے بعد سامنے آیا۔
اتوار کو وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سینیارٹی لسٹ کے مطابق، صدر زرداری نے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا ”سینئر ترین جج“ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں تین ججز کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلے کو برقرار رکھا گیا تھا۔ ان ججز نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی تھی کہ ان تینوں ججز، بشمول قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، کو عدالتی یا انتظامی فرائض سرانجام دینے سے روکا جائے۔
یہ پانچ ججز — جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس سمن رفت امتیاز — نے سینئر وکلاء منیر اے ملک اور بیرسٹر صلاح الدین احمد کی وساطت سے عدالت عظمیٰ میں انٹرا کورٹ اپیل (آئی سی اے) دائر کی ہے۔
19 جون کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ تینوں ججز کی اسلام آباد ہائی کورٹ منتقلی غیر آئینی تھی۔ اس فیصلے میں عدالتی سینیارٹی کے تعین کا اختیار صدر پاکستان کو سونپ دیا گیا تھا۔
فروری میں جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر (لاہور ہائی کورٹ)، جسٹس خادم حسین سومرو (سندھ ہائی کورٹ) اور جسٹس محمد آصف (بلوچستان ہائی کورٹ) کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلہ کیا گیا تھا۔
تنازعہ ان تبادلوں کے بعد سینیارٹی لسٹ میں تبدیلی پر کھڑا ہوا، جس میں جسٹس ڈوگر کو سینئر جج قرار دیا گیا، اور یہی ان کی قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر تعیناتی کا سبب بنا۔
اپنی اپیل میں، پانچ ججز نے عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تینوں تبادلہ شدہ ججز کو عدالتی اور انتظامی اختیارات استعمال کرنے سے روکے، اور 19 جون کے فیصلے پر فوری طور پر عملدرآمد روکنے کے احکامات جاری کرے۔
اس کے علاوہ، درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں منتقل شدہ ججز کی سینیارٹی کے تعین کے خلاف حکمِ امتناع جاری کرے، اور صدر پاکستان کو اس ضمن میں کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے سے روکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025